کامیڈین عمر شریف کی بیٹی کو عطائی ڈاکٹروں نے کیسے مارا؟

معروف کامیڈین عمر شریف کی اکلوتی بیٹی حرا عمر آزاد کشمیر کے ایک عطائی ڈاکٹر کے ہتھے چڑھنے کے بعد 34 لاکھ روپے کی رقم کے عوض گردوں کی ناکام پیوند کاری کرواتے ہوئے جان کی بازی ہار بیٹھی۔
اداکارعمر شریف کے اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ حرا عمر کی موت گردوں کے آپریشن کے دوران ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے ہوئی۔ اہل خانہ کے مطابق 34 سالہ حرا عمر گردوں کے مرض میں مبتلا تھیں، ان کے گردے کی پیوندکاری کے لیے آزاد کشمیر کے ڈاکٹر سے 34 لاکھ روپے میں معاملہ طے پایا اوروہ 3 ہفتے تک ڈاکٹر کے نجی کلینک میں زیر علاج رہیں۔
اہلخانہ نے بتایا کہ آزاد کمشیر میں حرا کی طبیعت بہتر نہ ہونے پرانھیں 5 روز قبل لاہور کے نجی اسپتال میں لایا گیا جہاں وہ 5 روز تک زیر علاج رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔
دوسری طرف حرا کے بھائی جواد عمر نے ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹ اتھارٹی کو درخواست دے دی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی بہن 2017 سے ڈائیلسز کروا رہی تھیں، کسی ایجنٹ کے ذریعے ہم ڈاکٹر فواد ممتاز تک پہنچے۔ ڈاکٹر نے ان کی بہن حرا عمر کے گردے کے ٹرانسپلانٹ کیلئے 34 لاکھ روپے کی رقم کا تقاضا کیا۔ ڈاکٹر نے انھیں آپریشن تھیٹر میں تمام سہولیات کی موجودگی کا یقین دلایا۔ تاہم آپریشن کے دوران ڈاکٹر کی غفلت سے ان کا ٹرانسپلانٹ کامیاب نہیں ہوا انھیں نجی ہسپتال میں علاج معالجے کی بہترین سہولیات میسر نہیں آئیں اور وہ ڈاکٹر مافیا کے ہتھے چڑھ کر جان کی بازی ہار گئیں
اس حوالے سے ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب ہیومن آرگنز ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی عدنان احمد کا کہنا ہے کہ انہوں نے حرا کے بھائی جواد عمر کی درخواست پرغیر قانونی طور پر گردہ ٹرانسپلانٹ کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کے لیے ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ تا کہ پتا لگایا جا سکے کہ کن لوگوں کی غفلت کی وجہ سے بچی موت کے موت میں چلی گئی۔
دوسری طرف لاہور کے نجی اسپتال کے ڈاکٹروں کے مطابق حرا عمر کو جب اسپتال لایاگیا، تب ہی ان کی حالت تشویش ناک تھی تا ہم انھوں نے ان کی جان بچانے کی انتھک کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
ذرائع کے مطابق مرحومہ حرا کی نماز جنازہ ماڈل ٹاون لاہور میں عمر شریف کے وطن واپس آنے کے بعد ادا کی جائے گی۔
یاد رہے کہ کامیڈین عمر شریف کو بیٹی کے انتقال کے حوالے سے نہیں بتایا گیا جبکہ انہوں نے بیٹی کی طبیعت اچانک خراب ہونے کا سُن کر امریکا میں پروگرام منسوخ کرکے واپسی کے سفر پر گامزن ہیں۔ حنا عمر کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں بننے والے اپنے والد عمرشریف کے ہسپتال ’ماں‘ کی ایڈ منسٹریٹر تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close