کورونا وائرس: کروز شِپ کے تمام مسافروں کے ٹیسٹ مکمل

پُراسرار کورونا وائرس کے پیشِ نظر جاپان کے شہر یوکوہاما کے ساحل کے قریب 3 فروری سے قرنطینہ میں کھڑے بحری جہاز میں موجود تمام افراد کے ٹیسٹ مکمل کرلیے گئے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جاپان کے شہر یوکوہاما کی بندرگاہ سے کچھ فاصلے پر قرنطینہ میں کھڑے ’ڈائمنڈ پرنسز‘ نامی بحری جہاز میں اب تک 12 فیصد افراد اس خوفناک وائرس سے محفوظ ہیں۔
جاپانی حکومت کے مطابق جہاز میں موجود تمام مسافر اور عملے کے افراد کا ٹیسٹ کرلیا گیا ہے اور نتائج آنے کے بعد 19 فروری سے جہاز سے مسافروں کے انخلاء کا عمل شروع ہوگا جس میں مزید دو سے تین دن لگ سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس کروز شپ میں تقریباً 3 ہزار 700 افراد سوار ہیں جن میں مسافر اور جہاز کا عملہ شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا نے بھی’ڈائمنڈ پرنسز‘ میں پھنسے اپنے شہریوں کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی کوریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 400 زائد ہے۔
کروز شپ کو قرنطینہ میں رکھنے کے معاملے میں جاپان پر کافی تنقید بھی کی جارہی ہے کیوں کہ جہاز میں روزانہ درجنوں افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہورہی ہے تاہم جاپان اپنی حکمت عملی کا دفاع کررہا ہے۔جاپان کے وزیر صحت کاٹسونوبو کاٹو‘ کا کہنا ہے کہ سیاحتی بحری جہاز میں موجود مسافر جو وائرس سے متاثر نہیں ہیں ان کل (بدھ) سے قرنطینہ کی مدت ختم ہونے کے بعد جہاز سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم نے جہاز پر موجود ہر شخص کے ٹیسٹ کیے ہیں، کچھ لوگوں کے ٹیسٹ کے نتائج آگئے ہیں اور جن میں وائرس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے 19 فروری سے جہاز سے ان کے انخلاء کا آغاز کردیا جائے گا۔مزید بتایا کہ وہ لوگ جو وائرس سے متاثرہ افراد کے زیادہ قریب رہے ہیں انہیں مزید قرنطینہ میں رہنا ہوگا جبکہ آخری مسافر کے جہاز سے اتر جانے کے بعد عملے کے ارکان کو بھی مزید کچھ دنوں کیلئے الگ تھلگ رکھا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، ہانگ کانگ اور اب جنوبی کوریا بھی ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے بحری جہاز میں سے اپنے شہریوں کو نکالنے کا اعلان کیا ہے۔جاپان کی مقامی نیوز ایجنیسی کے مطابق ڈائمنڈ پرنسز نامی بحری جہاز میں مجموعی طور جنوبی کوریا کے 14 افراد سوار ہیں جن میں سے 10 جاپان کے ہی رہائشی ہیں اس لیے انہوں نے وہاں سے نکلنے سے منع کردیا ہے جبکہ باقی 4 افراد کو خصوصی طیارے سے واپس اپنے ملک لایا جائے گا۔
امریکا اب تک اپنے 3 سو زائد افراد کو جہاز سے نکال چکا ہے جن میں کئی افراد میں وائرس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔امریکا کی طرح باقی ممالک بھی جہاز سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے بعد ان افراد کو وائرس کے خدشے کے پیشِ نظر 14 دن تک قرنطینہ میں ہی رکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close