صحافی عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ 2 روز بعد بھی درج نہ ہوسکا

نوشہرو فیروز میں نجی ٹی وی (کے ٹی این) کے رپورٹر عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ 2 روز گزر جانے کے باوجود درج نہ ہوسکا۔مقتول صحافی کے بھائی منیر میمن نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا ہے کہ صوبائی وزیر سعید غنی نے یقین دلایا تھا کہ جس تھانے میں مقدمہ درج کرائیں ہوجائے گا۔منیر میمن کے مطابق ہمارے خلاف بڑی سازش ہو رہی ہے اور مقدمے کو دبایا جارہا ہے، اب تک عزیزمیمن کے کیس میں کوئی تفتیش نہیں ہوئی ،ہم مطمئن نہیں ہیں ۔
عزیز میمن کے بھائی نے قتل کے واقعے پر جوڈیشل کمیشن بنانے اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔مقتول صحافی کے بھائی کا کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے ویڈیو وائرل ہونےکے بعد تحفظ مانگا تھا مگر نہیں دیاگیا، وہ اکثر پریشان رہتا تھا، اس نے محراب پور میں منشیات کے خلاف بہت کام کیا ہے۔دوسری جانب سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) نوشہرو فیروز ڈاکٹرفاروق احمد کا کہنا ہے کہ تھانوں کی حدود کا کوئی مسئلہ نہیں، اہل خانہ جہاں چاہیں مقدمہ درج کراسکتے ہیں۔
ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ جس بھی ضلعے کے تھانے میں مقدمہ درج ہو، کام تو پولیس کو کرنا ہے، اہل خانہ ایف آئی آر کٹوائیں گے تو قانونی کارروائی شروع ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ عزیز میمن کے قتل کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہے، پوچھ گچھ کے لیے خیرپور سے ایک شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 16 فروری کو ضلع نوشہروفیروز کے شہر محراب پور میں سندھی چینل کے ٹی این کے رپورٹر عزیز میمن کی لاش نہر سے برآمد ہوئی تھی۔مقتول صحافی عزیز میمن کو گذشتہ سال بلاول بھٹو کے ٹرین مارچ کے دوران شہرت ملی تھی جب انہوں نے ٹرین مارچ میں 200 روپے لے کر آنے والی خواتین جیالوں کی اسٹوری کی تھی۔
ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی جب کہ وزیراعظم عمران خان سمیت مخلتف سیاسی قائدین نے اس ویڈیو کا تذکرہ اپنی تقاریر میں بھی کیا تھا۔خبر کے بعد مقتول صحافی عزیز میمن کو دھمکیاں مل رہی تھیں جس کا اظہار انہوں نے کئی بار کیا بھی تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close