بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں زنانہ افرادی قوت میں بہتری آئی

پاکستان اور بھارت میں خواتین کی افرادی قوت 30 فیصد سے کم ہے جب کہ عالمی اوسط کی نصف ہے اور دونوں پڑوسی ممالک مخالف سمت کی جانب گامزن ہیں۔ اس سلسلے میں حالیہ عشروں کے دوران بھارت میں زنانہ افرادی قوت کی شرکت میں اوسطاً ایک فیصد کی کمی جب کہ پاکستان میں 2 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
یہ اعداد و شمار ’افرادی قوت میں خواتین: مالیاتی پالیسیز کا کردار‘کے عنوان سے عالمی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) کی تحقیق کا حصہ ہیں۔ آئی ایم ایف اسٹاف کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ممالک میں خواتین کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے مردوں کی طرح کے مواقع میسر نہیں۔
حالانکہ گزشتہ 30 سال کے عرصے میں افرادی قوت میں صنفی تفاوت میں کمی آئی ہے پھر بھی خواتین کی افرادی قوت کی شرکت مردوں کی شرح سے کہیں کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق زنانہ افرادی قوت کی حصے داری میں اضافے اور مردانہ افرادی قوت کی شرکت مستحکم رہنے سے افرادی قوت کے عالمی صنفی تفاوت میں کمی آئی اور 2018 میں اس میں 20 فیصدی پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
خیال رہے کہ 2018 تک افرادی قوت میں 15 سے 64 سال کی عمر کی صرف 60 فیصد خواتین شامل تھیں جبکہ مردوں کی شرح 80 فیصد تھی تاہم بھارت، پاکستان اور مصر سمیت 21 ممالک میں زنانہ افارادی قوت کی شرکت 30فیصد کم تھی۔
دنیا کے مختلف ممالک میں زنانہ افرادی قوت کی حصے داری ممالک کے اعتبار سے مختلف ہے جس میں الجیریا اور اردن میں 15 فیصد سے لے کر آئس لینڈ میں 86 فیصد ہے۔
یہ تفاوت معیشتوں اور سماجی ڈھانچوں میں موجود تفریق کا عکاس ہے جو خواتین کےلیے معاشی مواقعوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں ممالک کے درمیان 1990 سے زنانہ افرادی قوت میں اضافہ بھی مختلف ہے، عالمی سطح پر ایک چوتھائی ممالک میں زنانہ افرادی قوت کی شرکت میں کمی دیکھی جارہی ہے مثلاً بھارت اور سری لنکا میں 1990 سے 2018 تک اس میں ایک فیصد کی کمی دیکھی گئی جب کہ پاکستان، پیرو اور اسپین میں سالانہ اوسطاً 2 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تمام ممالک میں زنانہ افرادی قوت کی حصے داری اب بھی مردوں کی شرح سے 20 فیصدی پوائنٹس کم ہے، جب کہ تنخواہوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی میں بھی صنفی تفاوت پایا جاتا ہے‘۔ اس سلسلے میں بہت سے ممالک 80 دہائی کی وسط سے ایسی معاشی پالیسیز اپنا رہے ہیں جو صنفی مساوات کو فروغ دیں۔ یوں 2018 تک کم از کم 80 ممالک میں صنفی تفاوت کو کم کرنے کے لیے صنفی ذمہ داریوں پر مشتمل پالیسی کا استعمال کیا گیا۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ صنفی ذمہ داریوں پر مشتمل مالی پالیسیسز سے زنانہ افرادی قوت کی شرکت میں مدد ملی اور اس کے اہم میکرو اکنامک اور ڈسٹری بیوشنل اثرات ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close