میشا شفیع کے الزام پر علی ظفر کو PSL سے باہر کیا گیا

معلوم ہوا ہے کہ میشا شفیع کی جانب سے عائد کردہ جنسی ہراسگی کے الزام کی وجہ سے نہ تو اس برس علی ظفر سے سے پاکستان سپر لیگ کے لیے گانا گوایا گیا اور نہ ہی پی ایس ایل کے دوران علی ظفر کا ‘پھر سے سیٹی بجے گی’ یا کوئی اور گانا چلانے کی اجازت ہے۔ پاکستان سپر لیگ یا پی ایس ایل کے سیزن 5 کی افتتاحی تقریب کے بعد سے علی ظفر اور علی عظمت کے مابین باہمی تنازعہ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تیزی آرہی ہے۔ جہاں افتتاحی تقریب کو شائقین اور ستاروں دونوں کی جانب سے ناپسند کیا گیا وہیں مداحوں نے سوشل میڈیا پر اس خواہش کا بھی اظہار کیا کہ علی ظفر کو پی ایس ایل ترانوں کے لیے واپس لایا جائے۔ تاہم اب یہ خبر سامنے آئی ہے کہ پی ایس ایل میں علی ظفر کی جانب سے گائے گانوں کو چلانے کی اجازت نہیں اور اس کی بنیادی وجہ ان پر میشا شفیع کی جانب سے لگائے گئے جنسی ہراسگی کے الزامات ہیں۔ تاہم علی ظفر کے مداحوں کا کہنا ہے کہ میشا شفیع کے الزامات پہلے ہی عدالت مسترد کر چکی ہے۔
اے آر وائی کے ایک حالیہ پروگرام میں میزبان وسیم بادامی نے علی ظفر سے ٹیلی فون کے ذریعے بات چیت کی۔ اس دوران انہوں نے پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کے میزبان احمد گوڈیل کی ایک ویڈیو بھی دکھائی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ‘فیمنزم اپنی جگہ، می ٹو اپنی جگہ، پر ابھی تک علی ظفر پر الزام ثابت نہیں ہوا اور سننے میں آیا ہے کہ میشا شفیع کیس بھی ہار چکی ہیں، لیکن پی ایس ایل میں مجھے اجازت نہیں کہ میں علی ظفر کا کوئی بھی گانا چلا سکوں’۔ انہوں نے مزید کہا کہ ‘بجائے اس کے کہ ہم پرانی باتوں کو بھلائیں اور ایک دوسرے کو سپورٹ کریں، ہمیں اب بھی ان سب کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے’۔ احمد گوڈیل کے مطابق ‘میں نہیں جاتنا مستقبل میں کیا ہوگا، لیکن اللہ تعالیٰ جو بھی کرتا ہے بہتر ہوتا ہے اور اس کے آگے انسان کچھ نہیں کرسکتا’۔
احمد گوڈیل کے اس بیان پر علی ظفر نے حیرانی کا اظہار کیا اور کہا کہ پی ایس ایل کسی ایک شخص، ادارے، اسپانسر یا کسی ایک ٹیم کا برانڈ نہیں، یہ پاکستانیوں کا برانڈ ہے اور پاکستانیوں کے لیے ہی ہے۔ علی ظفر کا کہنا تھا کہ ‘جب تین سال پی ایس ایل میں میری خدمات حاصل کی گئیں تو میں نے بہت کم معاوضے میں صرف اس برانڈ کو بڑھانے کے لیے کام کیا کیوں کہ اس ملک میں بڑے پیمانے پر ایسی مثبت چیزیں کم ہی کی جاتی ہیں’۔ انہوں نے کہا کہ ‘میں جو کرسکتا تھا میں نے کیا اور میرا مقصد یہ تھا کہ یہ برانڈ لوگوں کو خوشیاں دے’۔ علی ظفر کے مطابق میں نے ‘پھر سے سیٹی بجے گی’ گانا پی سی بی کو بنا کر دیا تھا اب اگر انہوں نے گانا نہیں چلانا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ خود اس بات کی تصدیق کریں کہ میرا گایا ہوا کوئی گانا اسٹیڈیم میں نہیں بجے گا’۔ شو کے آخر میں وسیم بادامی نے علی ظفر سے درخواست کی کہ اگر انہیں پی ایس ایل کا آفیشل گانا نہیں بھی ملا تو وہ خود سے پی ایس ایل کے لیے ایک گانا گا کر ریلیز کردیں۔
اس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ‘میں پوری کوشش کروں گا کہ لوگوں کی خواہش پوری کر سکوں لیکن میں کسی کا دل نہیں دکھانا چاہتا’۔ خیال رہے کہ پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کے بعد گلوکار علی عظمت نے ایک انٹرویو میں علی ظفر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہا تھا کہ کچھ فنکاروں نے ان کے گانے کو منفی ثابت کرنے کے لیے بلاگرز کو خریدا۔ اس کے بعد علی ظفر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک مزاحیہ ویڈیو بھی جاری کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کا کوئی گانا یا ایونٹ نہیں چلا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی صرف ان پر ہوگی۔ علی ظفر پی ایس ایل کے ابتدائی تین سیزنز کے لیے ترانے گا چکے ہیں۔ جبکہ چوتھے سیزن کا گانا فواد خان نے گایا تھا۔ واضح رہے کہ پی ایس ایل 5 کا ترانہ ‘تیار ہیں’ علی عظمت، عاصم اظہر، ہارون راشد اور عارف لوہار نے گایا۔ اس گانے کو بھی شائقین کا ملا جلا ردعمل موصول ہوا جبکہ سوشل میڈیا پر علی ظفر کے ترانے ‘سیٹی بجے گی’ کو خوب یاد کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close