افغان صدر کے اعلان کے بعد افغان طالبان بھی معاہدے سے پھر گئے

امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے بعد افغان صدر کی جانب سے طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے سے انکار نے افغانستان میں صورتحال دوبارہ کشیدہ کر دی ہے کیونکہ طالبان نے فوری طور پر افغان آرمی کے خلاف بڑے حملے شروع کر دیے ہیں جس سے امن معاہدہ شدید خطرے سے دوچار ہو گیا ہے۔

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے کے تھت طالبان قیدیوں کی رہائی سے صاف انکار کے بعد افغان طالبان نے بھی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ افغان فوج پر حملے شروع کر رہے ہیں اور طالبان قیدیوں کی رہائی تک انٹرا افغان مذاکرات میں بھی شریک نہیں ہوں گے۔ طالبان کے اس بیان کے بعد امن معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے شدید خطرات پیدا ہوگئے ہیں تاہم امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ طالبان قیدی معاہدے کے مطابق ضرور رہا کیے جائیں گے۔

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ وہ افغان افواج کے خلاف لڑیں گے لیکن معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی جانب سے یہ بڑا بیان دراصل افغان صدر اشرف غنی کو کھلی دھمکی ہے جنہوں نے امن معاہدے کے برعکس طالبان قیدیوں کی رہائی سے واضح انکار کیا ہے۔

خیال رہے کہ طالبان کی جانب سے معاہدے کے بعد ایک ہفتے تک تشدد میں کمی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سکاٹ ملر نے اس حوالے سے ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ تشدد میں کمی حوصلہ افزا تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم اپنے وعدوں کے حوالے سے سنجیدہ ہیں، اور ہم طالبان سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں پر پورا اتریں گے۔

یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کو بنیادی طور پر یہ اعتراض ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ امریکہ نے جو امن معاہدہ کیا ہے اس میں حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا۔ تاہم اس معاہدے میں طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کا نقطہ بھی شامل تھا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ہم بین الافغان مذاکرات کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں لیکن ہم اپنے 5000 قیدیوں کی رہائی کا انتظار کر رہے ہیں۔ گر ہمارے 5000 – 100 یا 200 کم زیادہ سے فرق نہیں پڑتا – رہا نہ کیے گئے تو بین الافغان مذاکرات نہیں ہوں گے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ ان کی حکومت نے طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا وعدہ نہیں کیا، جیسا کہ دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں کہا گیا ہے۔ قطر میں ہونے والے تاریخی امن معاہدے کے مطابق 5000 طالبان قیدیوں کی رہائی کے بدلے طالبان کے زیر حراست ایک ہزار قیدیوں کو 10 مارچ تک رہا کیا جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق افغان حکومت کے پاس 10 ہزار طالبان قید ہیں۔

ادھر طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ اگر قیدیوں کو رہا نہ کیا گیا تو بین الافغان مذاکرات التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کی جانب سے پانچ ہزار قیدیوں کے حوالے سے دیے گئے بیانات صرف بیان کی حد تک ہی ہیں کیونکہ یہ بات معاہدے میں لکھی جا چکی ہے جس پر پوری دنیا کے سامنے دستخط کیے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد ہمارا بھی فرض ہے اور افغان حکومت کا بھی۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کا راستہ کٹھن اور ناہموار ہو گا۔ کسی کو بھی یہ غلط فہمی نہیں ہے کہ یہ مذاکرات مشکل نہیں ہوں گے۔ ایک انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدہ ایک تاریخی دن تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں باضابطہ بین الافغان مذاکرات کا آغاز بھی ہوگا جوکہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق ہم تمام متعلقہ افغان فریقوں کے درمیان اعتماد کی فضا پیدا کرنے، افغان حکومت، غیر طالبان ، اور دیگر کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پیدا کرنے کے لیے کام کریں گے۔

جب مائیک پومپیو سے سوال کیا گیا کہ طالبان کے 5000 طالبان قیدی جنھیں امریکہ ماضی میں دہشت گرد قرار دیتا رہا ہے، ان کی رہائی کے وعدے پر عملدرآمد یا عدم عملدرآمد اس معاہدے کی عملدری پر اہم اثر ڈال سکتا ہے، ایسے میں امریکہ کیا کرے گا۔ اس سوال کے جواب میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ بے شک ان کے ہاتھوں پر بہت سے امریکیوں کا خون ہے لیکن ماضی میں بھی دونوں جانب سے قیدیوں کا تبادلہ کیا جاتا رہا ہے، ہم نے مستقبل کا لائحہ عمل طے کر لیا ہے، ہم جانتے ہیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ہم اعتماد سازی سے متعلق اقدامات کر رہے ہیں جن کا وعدہ صدر ٹرمپ نے کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کی رہائی سے انکار کے بعد امریکہ بھی افغان صدر سے ناراض ہے کیونکہ امریکہ کو اچھی طرح اندازہ ہوچکا ہے کہ اگر ابتدا میں ہی طالبان کو دھوکا دیا گیا تو امن معاہدے کا مستقبل خطرات سے دوچار ہوجائے گا۔ ایسے میں صاف نظر آتا ہے کہ امریکہ آگے بڑھ کر افغان حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے طالبان قیدیوں کی رہائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں اس عزم کا اظہار کے طالبان کی رہائی کا وعدہ صدر ٹرمپ نے کیا ہے اور ہم اسے ضرور پورا کریں گے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے طالبان اپنا موقف منوانے میں کامیاب ہوجائیں گے تاہم یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی طالبان امریکا امن معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں اور مستقبل میں بھی اس معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوششیں جاری رکھیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close