کیا مردوں کے سوچنے کی صلاحیت عورتوں سے زیادہ ہے؟

کیا مردوں اور عورتوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں فرق ہوتا ہے؟ کیا مردوں کی سوچنے کی صلاحیت عورتوں سے زیادہ ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات ہمیشہ سے ہی کیے جاتے رہے ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے ان کا جواب دے دیا ہے، سوئس سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق کے مطابق عورتیں دماغی طور پر مردوں سے زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اور منفی جذبات کو زیادہ دیر تک یاد رکھتی ہیں۔
یونیورسٹی آف بیسل کی جانب سے کی گئی تحقیق میں مردوں اور عورتوں کے جذبات، یادداشت اور دماغی کارکردگی پر تجربات کئے گئے۔ اس مقصد کےلئے 3398 مرد اور عورتوں پر تجربات کئے گئے اور یہ بات سامنے آئی کہ خواتین بہت جلد جذباتی ہو جاتی ہیں اور بالخصوص منفی جذباتی مناظر کو زیادہ دیر تک یاد رکھتی ہیں۔
تجربات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ عام مناظر کو یاد کرنے میں مرد اور عورتوں کی صلاحیت برابر تھی لیکن جب بات کسی جذباتی منظر کو یاد کرنے کی ہو تو خواتین میں یہ صلاحیت زیادہ تھی۔ محقق ڈاکٹر کلارا سپالک کا کہنا ہے کہ تجربات کے بعد اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ خواتین مردوں سے زیادہ جذباتی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی سمجھنے میں آسانی ہوئی کہ جنس کی وجہ سے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کی طرح انسانی ذہن کے برتاؤ کا زیادہ دار و مدار بھی ہارمونز پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ کچھ کاموں میں مرد بہتر ہوتے ہیں تو کچھ میں خواتین لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ صرف مفروضے ہی ہیں، ایسی باتیں خواتین کو کئی شعبوں میں جانے سے روکتی ہیں، مثال کے طور پر سائنس کے میدان میں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ہم ایسی دنیا ٍمیں رہ رہے ہیں جہاں دس میں تین سے بھی کم لڑکیاں اے لیول میں فزکس بطور مضمون پڑھتی ہیں اور انجینئرز میںصرف سات فیصد خواتین ہیں۔ کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر سائمن بیرن کوہن کا خیال ہے کہ انسانی ذہن کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم کا ذہن رکھنے والے لوگ یہ بہتر بتا سکتے ہیں کہ انسان کیا سوچ رہا ہے اور کیا محسوس کر رہا ہے جب کہ دوسری قسم کا ذہن رکھنے والے لوگ سسٹمز کو جاننے اور اس کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مردوں اور عورتوں کے دماغوں میں فرق یونیورسٹی آف پنسلوینیا کی ایک تحقیق سے بھی واضح ہوتا ہے، اس تحقیق میں آٹھ اور 22 سال کے درمیان 949 مرد و خواتین کے دماغ اسکین کیے گئے جس سے کچھ حیرت انگیز فرق سامنے آئے۔ تحقیق میں شامل پروفیسر روبن گر کے مطابق مردوں کے دماغ کے اگلے اور پچھلے حصوں میں مضبوط تعلق پایا گیا۔ ان کے خیال میں اس کے باعث مردوں میں جلد اور بروقت ردعمل کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے جیسے کہ مرد اچھے شکاری ہوتے ہیں۔
تحقیق میں شامل ایک اور محقق ڈاکٹر رگینی ورمن کے مطابق عورتوں کے دماغ کے دائیں اور بائیں حصوں میں زیادہ رابطہ پایا گیا اور جس دماغ میں ایسا ہو تو اس کے مالک ایک وقت میں ایک سے زیادہ کام کرنے اور ان کاموں کے کرنے میں جن میں جذبات استعمال کرنے ہوتے ہوں، بہت اچھے ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close