خواتین کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے والی سینڈل تیار

سندھ کی ایک یونیورسٹی کے طلبہ نے خواتین کو ہراسانی سے محفوظ رکھنے کےلیے الیکٹرانک اسمارٹ سینڈل تیار کرلی۔
ٹنڈو جام یونیورسٹی کے شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کرنے والے سافٹ ویئر انجینئر راحیل سرور نے اپنے شعبے کی طالبہ عابدہ کے ساتھ مل کر اسمارٹ سینڈل متعارف کروائی۔ اس سینڈل کی خاص بات کی ہےکہ اگر کسی نے اسمارٹ سینڈل پہنی خاتون کو ہراساں کرنے کی کوشش کی تو اسے زور دار کرنٹ کا جھٹکا لگے گا۔
اسمارٹ سینڈل میں لگے سینسر اور الیکٹرانک ڈیوائسز موبائل ایپ پر سینڈل کی ریئل ٹائم لوکیشن سمیت دیگر فنکشنز بتاتی ہے جب کہ اسمارٹ سینڈل پہنی کسی خاتون کو اگر کوئی شخص جنسی ہراساں کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ سینڈل بطور ہتھیار بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔
اسمارٹ سینڈل تیار کرنے والے راحیل اور عابدہ کا کہنا ہے کہ اسمارٹ سینڈل کی تیاری پر 12 ہزار روپے کی رقم خرچ ہوئی ہے لیکن حکومت تعاون کرے تو سینڈل کی تیاری پر آنے والی لاگت 1500 روپے تک لا کر ہر لڑکی کو محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close