کرونا وائرس کا خطرہ کن بلڈ گروپس میں سب سے زیادہ ہے؟

طبی ماہرین کا کہناہے کہ اب تک کی تحقیق کے مطابق خون کے دو گروپس یعنی اے پازیٹیو اور اے نیگیٹیو کے حامل افراد کا کرونا کے مہلک وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سب سے کم خطرہ او بلڈ گروپس والے افراد کو ہے۔
کرونا وائرس پر چینی ماہرین کی تحقیق کے مطابق اب تک دو مخصوص بلڈ گروپس والے افراد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین نے چین میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے دو ہزار افراد کے کیسز کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ ان میں بیشتر افراد کے بلڈ گروپس یا تو اے پازیٹیو یا اے نیگیٹیو تھے۔ جبکہ کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے 200 سے زائد افراد کے کیسز کی جانچ میں معلوم ہوا کہ تقریباً 63 فیصد جاں بحق افراد کا بلڈ گروپ اے پازیٹو یا اے نیگیٹیو تھا۔
دوسری طرف جس بلڈ گروپ کے حامل افراد سب سے کم متاثر ہوئے ہیں، وہ او گروپ ہے۔ ماہرین نے اس تحقیق کے بعد اے بلڈ گروپ کے حامل افراد کو تلقین کی ہے کہ انہیں دوسروں لوگوں کے مقابلے میں زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اے بلڈ گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد میں کرونا سے متاثر ہونے کی شرح زیادہ ہونے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ دنیا میں اس بلڈ گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے۔
واضح رہے کہ کرونا وائرس دنیا کے 168 ممالک تک پھیل چکا ہے جبکہ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 9ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور دو لاکھ سے زائد افراد کرونا کا شکار ہو چکے ہیں۔ چین، اٹلی اور ایران کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے مملک ہیں جہاں ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
جبکہ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 460 سے بڑھ چکی ہے۔ تاہم اچھی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس چین سے شروع ہوا تھا اور اب وہاں پر اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔ پچھلے ایک ہفتے کے دوران اس مہلک وائرس کا شکار نئے مریضوں کی تعداد بہت کم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حفاظتی تدابیر اپنائی جائیں تو اس وائرس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں صرف دو ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close