کرونا کیخلاف قوت مدافعت بڑھانے والے پھل کون سے ہیں؟

کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے کی جانے والی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ جس انسان کے جسم میں مدافعتی نظام ٹھیک کام کر رہا ہو گا وہ کرونا کا شکار ہونے سے بچا رہے گا لیکن جس کا مدافعتی نظام کمزور ہوگا وہ اس وائرس کا فوری شکار ہوجائے گا لہٰذا ضروری ہے کہ آپ کے جسم میں مدافعتی نظام ٹھیک کام کر رہا ہو۔
ایک تندرست انسانی جسم میں انفیکشن اور بیماریوں کو مات دینے کے لئے مضبوط مدافعتی نظام ہونا بے حد ضروری ہے ، انسان کیا کھاتا ہے ،کیا پیتا ہے؟کتنی ورزش کرتا ہے ؟ یہ سب چیزیں قوّت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
طبی ماہرین قوت مدافعت کی مضبوطی کے لئے صحت بخش غذا کا استعمال لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں ، مختلف نوعیت کے وٹامن، مناسب مقدار میں پروٹین اور لحمیات کے علاوہ کیلشیم سے بھرپور غذا کا استعمال مدافعت کے نظام کو رواں رکھنے کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل ہے لیکن قوت مدافعت کو بہتر بنانے کے لئے کن غذاؤں کا استعمال ضروری ہے ، آج ہم آپ کو ایسی ہی غذائوں کے متعلق بتائیں گے جوکہ امیون سسٹم کو فعال رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
امیون سسٹم کی بہتری کے لئے وٹامن سی کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے ، وٹامن سی ایک اہم فزیالوجیکل اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کولیجن فائبر اور نیوروٹرانسمیٹر کے بننے اور پروٹین میٹا بولزم میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جب بات ہو وٹامن سی کی تو کھٹے یا ترش پھلوں میں وٹامن سی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے ، غذا میں کھٹے ذائقے والے پھل مثلا سنگترہ، لیموں، چکوترا اور مسمی کو شامل کرنا صحت مند رہنے کے لیے مفید ہے ، وٹامن سی کی کمی سے زخموں کے بھرنے کا عمل سست روی کا شکار ہو جاتا ہے اور انفیکشن سے بچاؤ کے لئے جسمانی مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم میں قوت مدافعت کو بہتر اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ، ادرک میں پایا جانے والا ’جنجرولز‘ نامی مادہ اگر چہ ادرک کے ترش ذائقے کا سبب بنتا ہے لیکن یہ ادرک کے طبی فوائد کا باعث بھی ہے ، انہیں طبی فوائد کے باعث ادرک کو روایتی اور غیر روایتی طریقہ علاج میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ، ماہرین کے مطابق بہترین فوائد کے حصول کے لئے خشک کے بجائے تازہ ادرک استعمال کی جانی چاہئے۔
امیون سسٹم یا مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں ہڈیوں کو مضبوط بنانے والا ’’وٹامن ڈی،، کلیدی کردار ادا کرتا ہے ، اس کی مدد سے مختلف جراثیم کو مارنے والے سیلز پیدا ہوتے ہیں ، وٹامن ڈی قوت مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ، وٹامن ڈی کی کمی سے جسم انفیکشن کا شکار ہوتا ہے ، ضروری ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی نہ ہونے پائے۔
سورج کی روشنی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ، صبح کے وقت 10 سے 15 منٹ کے لیے دھوپ میں بیٹھیں ، اپنی غذا میں وٹامن ڈی سے بھر پور اشیاء شامل کریں ، مچھلی ، پنیر، انڈے کی زردی اور کچھ مشرومز میں وٹامن ڈی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
کیلا دنیا بھر میں لوگوں کے پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے، بیش بہا فوائد لئے اس اہم پھل میں تین طرح کی قدرتی شکر پائی جاتی ہے ، سکروز، فروکٹوز اور گلوکوز جبکہ کیلے میں فائبر یا ریشے بھی موجود ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کیلے کو فوری توانائی پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی نہیں کیلےمیں وٹامنB اور C کی زیادہ تر اقسام پائی جاتی ہیں۔ کیلا ہی نہیں اس کا ملک شیک انسانی جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے علاوہ اعصابی نظام کی بہتری میں مدد کرتا ہے۔ ایک کیلے میں سیب کی نسبت 4گنا زیادہ پروٹین ،دوگنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس، تین گنا زیادہ فاسفورس ، پانچ گنا زیادہ وٹامن A اور آئرن اور دوگنا زیادہ دوسرے وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں۔
’’مصالحہ جات کا سردار ،، لہسن بھی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ زمانہ قدیم سے استعمال کے باوجود اسے خطرناک نہیں کہا گیا ، اسے خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام جہاں مضبوط ہوتا ہے وہیں انسانی جسم بیماریوں سے لڑنے کے لئے مضبوط ہو جاتا ہے ، لہسن ایک قدرتی انٹی بائیوٹک ہے اس کا استعمال خون کو پتلا کرنے کے ساتھ دوران خون بھی تیز کرتا ہے۔
دہی ڈیری پراڈکٹس میں سپر ہیرو کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف قوت مدافعت بڑھانے اوربیماریوں سے لڑنے کا فوری اور سستا ذریعہ ہے بلکہ اسے وٹامن ڈی اور جسم کی قدرتی حفاظت کا خزانہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مختلف پھلوں کے ملاپ سے آپ اسکی افادیت میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔چونکہ یہ دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہےاس لئے اس میں کیلشیم ، پروٹین اور پروبائیوٹک کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس میں پائے جانے والے مفید بیکٹیریا ناصرف نظام انہضام کو بہتر کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
بات ہو امیون سسٹم بہتر بنانے کی اور پالک کا ذکر نہ آئے ناممکن سی بات لگتی ہے۔وٹامن سی ،اے،بیٹاکیروٹین اوردیگر اہم غذائی اجزاء پرمشتمل ہونے کے باعث مختلف انفیکشن سے لڑنے میں مدافعتی نظام کی مددکرتاہے۔تاہم پالک استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ زیادہ دیرپکانے کے بجائے کیونکہ کم پکانے کے باعث اسکی غذائی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close