کرونا وائرس بارے پھیلی غلط فہمیوں کی حقیقت کیا ہے؟

کرونا وائرس کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سارے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں جن میں سے اکثر کی کوئی سائنسی توجیع موجود نہیں ہے۔ ایسے دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں اور لوگوں میں وائرس کے بارے غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں۔
کچھ فیس بک پوسٹس میں یہ کہا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ فرد میں خشک کھانسی کی علامت ظاہر ہوتی ہے جبکہ ناک بہنا اور بخار عام فلو کی نشانی ہے۔ یہ دعوی غلط ہے کیونکہ کرونا وائرس کی وجہ سے بھی ناک بہنا، بلغم اور عام بخار جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔
بعض فیس بک پوسٹس میں یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کی علامات ایک، ایک کر کے ظاہر ہوتی ہیں جیسے گلے کی خراش پہلے ظاہر ہوتی ہے پھر نمونیا ہوتا ہے وغیرہ۔ جبکہ کرونا وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں مشکل پیدا ہونا ہیں۔ ان علامات کے ظاہر ہونے کی کوئی ترتیب نہیں اور یہ ایک ساتھ بھی پیدا ہو سکتی ہیں اور ان کے ظاہر ہونے میں وقت بھی لگ سکتا ہے
بعض سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ کر2نا وائرس 26 یا 27 درجے سینٹی گریڈ پر مر جاتا ہے۔ یہ ہاتھوں پر چند منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے جب کہ کپڑے اور دھاتوں پر 12 گھنٹوں تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کے بارے میں طبی ماہرین نے ابھی تک کسی خاص وقت کا تعین نہیں کیا ہے۔ امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے کرونا وائرس سے متعلق جاری کردہ معلوماتی صفحہ میں اس کے متعلق کہا گیا ہے کہ ابھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کیا موسم اور درجہ حرارت اس وائرس کے پھیلاؤ میں فرق ڈال سکے گا یا نہیں؟ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے کرونا وائرس سے متعلق معلوماتی صفحے میں کہا گیا ہے کہ یہ وائرس مختلف سطحوں پر چند گھنٹوں سے لے کر کئی دن تک موجود رہ سکتا ہے۔
جرمنی کی ایک تازہ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ سارس اور مرس، جو کرونا وائرس کی فیملی سے تعلق رکھنے والے وائرس ہیں، دھاتوں، گلاس اور پلاسٹک کی سطحوں پر عام کمرے کے درجہ حرارت میں نو دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا کی پوسٹس میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ گرم پانی کے غرارے کرنے سے اس وائرس کو پھیپھڑوں تک پہنچنے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ درست ہے کہ پانی جسم کے لیے بہت اہم ہے مگر پانی کے درجہ حرارت کو تبدیل کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگرچہ گرم پانی کے غرارے کرنے سے گلے کی خراش میں آفاقہ ہو جاتا ہے مگر اس سے کرونا وائرس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ایک وائرل فیس بک پوسٹ میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ یہ وائرس چونکہ باقی وائرسز سے زیادہ بڑا ہے اس لیے کوئی بھی ماسک پہن کر اسے جسم میں داخل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ چینی محققین نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ وائرس ساٹھ سے ایک سو چالیس نینو میٹر کا ہوتا ہے۔
سی ڈی سی نے ایسے طبی اہل کاروں کو جو کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہدایات دی ہیں کہ وہ این 95 ماسک پہنیں۔ وہ لوگ جن میں کرونا وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں انہیں ماسک پہننے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی ہے۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایسے لوگوں کو ماسک پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close