کورونا وائرس : بچوں کو کیسے محفوظ رکھا جائے

کورونا وائرس کو عالمی ادراہ صحت کی جانب سے عالمی وبا قرار دیے جانے اور بالخصوص پاکستان میں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافے کے بعد عوام میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے اس سلسلے میں کراچی کے آغاخان اسپتال میں ایک آن لائن سیشن کا انعقاد کیا جس میں بچوں میں متعدی امراض، نفسیات، فیملی میڈیسن، ڈائیگناسٹک لیباریٹری اور نرسنگ مینجمنٹ سے تعلق رکھنے والے 7 ماہرین نے عوام کو اس وباء کے بچوں پر اثرات اور اس سے حفاظت کے بارے میں آگاہی دی۔
اس آگاہی سیشن کے دوران ماہرین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر والدین کے ذہنوں میں بچوں کی صحت سے متعلق پیدا ہونے والے خدشات اور سوالات کے جواب دیئے۔
اس سوال پر کہ کرونا وائرس (کوویڈ 19) دوسرے وائرس سے کیسے مختلف ہے پر ماہرین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے وائرس انسانوں، جانوروں اور پرندوں میں ہوتے ہیں لیکن ان ہی تک محدود رہتے ہیں لیکن کرونا وائرس تھوڑا مختلف ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے اور اس میں انفیکشن کرنے والی قوت بھی پیدا ہوگئی ہے۔
بچوں کے حوالے سے کیا احتیاط کی جائے پر ماہرین نے جواب دیا کہ ہمیں چاہئے کہ ایسی جگہ خود جائیں نہ بچوں کو لے جائیں جہاں لوگ زیادہ جمع ہوں ایک دوسرے سے فاصلے پر رہیں۔ گھر میں بھی بہت نزدیک ایک ساتھ بہت زیادہ وقت نہ گزاریں۔ گھر کی صفائی کا خیال رکھیں۔ بچوں کے کھلونوں کو صاف رکھیں۔ باہر کسی جگہ پر ہاتھ نہ لگائیں اور اگر لگ بھی جائے تو پھر منہ، ناک اور آنکھوں کو نہ چھوویں۔ سینیٹائزرز زیادہ ضروری نہیں ہاتھ صابن سے بہت اچھی طرح دھوتے رہیں۔ کھانستے وقت کہنی کی جگہ پر آستین میں منہ چھپا کر کھانسیں۔ ماسک ضروری نہیں لیکن رش والی جگہ یا اسپتال جانا پڑجائے تو خود اور بچوں کو استعمال کروا سکتے ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا کورونا سے متاثرہ مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلا سکتی ہیں پر بتایا کہ ایسی مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاسکتی ہیں۔ فیڈنگ کے وقت کھانسی آئے تو منہ ڈھانپ لیں تاکہ بچے تک وائرس نہ پہنچے۔ ماں کا دودھ بچوں کو انفیکشن سے بچا کر رکھتا ہے لہذا یہ عمل جاری رہنا چاہئے تاہم اگر ڈاکٹر کسی وجہ سے منع کردیں تو اور بات ہے۔
جب ڈاکٹرز سے دریافت کیا گیا کہ اسکول بند ہیں اور بچے زیادہ باہر بھی نہیں جاسکتے ایسے میں پڑنے والے نفسیاتی اثرات کیسے زائل کئے جائیں پر جواب دیا کہ گھر میں بچوں کے سونے جاگنے کے روٹین کو برقرار رکھیں۔ انہیں ورزش کروائیں اور ان کے ساتھ کھیلیں، صفائی کی تلقین کرتے رہیں۔ گھر کے باہر دوسروں سے فاصلہ رکھتے ہوئے سائیکل چلانے دیں، ٹینس اور بیڈمنٹن بھی کھیلا جاسکتا ہے جس میں کھلاڑیوں میں آپس میں فاصلہ ہوتا ہے۔ ان کے سامنے ہر وقت کورونا سے متعلق خبریں نہ دیکھیں اگر وہ وائرس کے بارے میں سوالات کریں تو انہیں سچ لیکن مختصر طور پر بتادیں۔ خود بھی ہر وقت کورونا سے متعلق خبریں اور اس کی تعداد دیکھنے سے گریز کریں۔ مثبت سوچ رکھیں، ذہنی دباؤ سے بچیں، خوش کیسے رہنا ہے یہ خود کو اور بچوں کو سیکھائیں۔
ایسے والدین جو اسپتالوں میں کام کرتے ہیں انہیں احتیاظ کے طور پر چاہیے کہ جو گلوز، ماسک اور گاؤن پہنیں وہ وہیں چھوڑ کر آئیں۔ گھر آکر پہلے ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور ممکن ہو تو شاور لے لیں اور پھر بچوں سے ملیں۔
اگر آپ کے بچے کو بخار ہوجائے تو پہلے آپ یہ دیکھیں کہ کیا آپ حال ہی میں بیرون ملک سے واپس آئے ہیں یا باہر سے کوئی آپ کے گھر آیا ہے اور یہ دیکھیں کہ کیا آپ کے اردگرد کورونا کا کوئی مریض ہے۔ اگر یہ باتیں نہیں ہیں تو پھر اتنا پریشان ہونے کی یا یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ یہ کورونا ہی ہوگا۔
اس سوال پر کہ کیا بچے اس وائرس سے کم متاثر ہوتے ہیں پر ماہرین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس چین اور دیگر ممالک سے جو ڈیٹا آیا ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ وائرس بڑوں پر زیادہ اثر انداز ہورہا ہے۔ ڈیٹا کے مطابق 9 سال سے بڑے بچے بھی اس سے متاثر پائے گئے ہیں تاہم یہ اتنی بڑی تعداد میں نہیں۔ جب پورا ڈیٹا آجائے گا تب ہی پوری صورت حال واضح ہوسکے گی۔ ویسے یہ ایک حقیقت ہے کہ بچوں میں اللہ نے خاص قسم کی قوت مدافعت رکھی ہے جس سے وہ مختلف انفیکشنز سے محفوظ رہتے ہیں۔
موجودہ صورت حال میں کیا بچوں کی عام ویکسی نیشن روک دی جائے کے حوالے سے ماہرین نے بتایا کہ اسپتال میں بہت زیادہ مریض ہوتے ہیں جہاں بچوں کو لے جانا مناسب نہیں لیکن چونکہ یہ خسرہ کا موسم ہے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ٹیکے نہ لگوائیں تاہم بچوں کو ایسی جگہ لے جائیں جہاں زیادہ ہجوم نہ ہو۔
دمہ کے مرض میں مبتلا بچوں پر کیا اس وائرس کا زیادہ اثر ہوگا پر ڈاکٹرز نے آگاہ کیا کہ بڑوں کے حوالے سے یہ پایا گیا ہے کہ جنہیں پرانے مسئلے ہوں ان پر کورونا وائرس کا اثر زیادہ ہوتا ہے تاہم بچوں میں اب تک ایسا نہیں دیکھا گیا ہے۔ ایسے بچے جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو انہیں ہجوم والی جگہوں پر نہ لے جایا جائے۔
اگر حاملہ خاتون کورونا کے متاثرہ شخص کے نزدیکی رابطے میں رہی ہوں اور انہیں خشک کھانسی اور بخار رہتا ہو تو وہ ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔ زچگی سے کچھ پہلے خاتون خود کرونا سے متاثر ہوگئی ہوں تو اس صورت میں ان کی زچگی علیحدہ کمرے میں کی جائے زچگی کے بعد ماں کو بچے سے دور رکھنے کی ضرورت نہیں تاہم اس بچے کو دوسرے بچوں سے دور رکھیں۔
کون سی دوائیں گھر میں رکھی جائیں پر ماہرین کا کہنا تھا کہ کورونا متاثرین کی 80 فیصد تعداد کو صرف کھانسی یا بخار ہوتا ہے۔ احتیاط کے طور پر پیراسٹامول یا پیناڈول گھر میں رکھیں گرم پانی کا استعمال رکھیں اس سے علامات کنٹرول میں رہیں گی، اگر کورونا کا شبہ ہو تو آئیبو پروفین سے پرہیز کریں کیوں کہ اس کے استعمال سے کورونا کے مریض کو صحت یاب ہونے میں دیر لگتی ہے۔ 3 سال سے کم عمر بچوں کو کھانسی کی دوا دینا مناسب نہیں۔
اس سوال پر کہ کیا ملیریا کی دوا کلوروکوئین کرونا کے مریضوں فائدہ پہنچا سکتی ہے پر ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کا ابھی ٹرائل جاری ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بھی اپنے طور پر یہ دوا دینے لگ جائیں۔ ڈاکٹرز ابھی خود سیکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے۔ اس دوا کا استعمال دنیا میں ختم ہورہا ہے کیوں کہ اس کے مضر اثرات ہوتے ہیں ۔ آپ بھی بہت احتیاط کریں یہ دوا نہ خود استعمال کریں اور نہ بچوں کو دیں۔ اپنے طور پر کوئی تجربات نہ کریں۔ سوشل میڈیا پر علاج اور بچاؤ کے حوالے سے جو بھی معلومات سامنے آئیں اس پر صرف ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر عمل نہ کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے گھر بیرون ملک سے کوئی آیا ہو اور انہیں کھانسی بخار نہ بھی ہو تب بھی ان سے تھوڑا فاصلے پر رہیں اور اگر فاصلہ برقرار ہے تو اپنا اور بچوں کا ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ۔اگر آپ خود باہر سے آئے ہیں اور آپ میں کورونا پایا گیا ہو اور بچے آپ کے قریب رہے ہوں تو پھر کا ٹیسٹ کرانے کیلئے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔
اگر بچے کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہو اور وہ ڈر رہا تو اسے سمجھائیں کہ یہ عمل تکلیف دہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی انجیکشن دیا جاتا ہے اور نہ ہی بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے صرف ائیر بڈ کی طرح کی ایک چیز ناک میں احتیاط سے داخل کرکے سیمپل لیا جاتا ہے اور اس کے دوران کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close