لاہور میں کرونا وائرس کا پہلا مریض چل بسا، وزیر صحت کی تصدیق

عالمی وبا کرونا وائرس سے پنجاب میں پہلی ہلاکت سامنے آگئی ہے. لاہور میں کرونا وائرس کا پہلا مریض چل بسا، 57 سالہ افرا سیاب میو ہسپتال میں زیر علاج تھا۔ وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد نے کرونا کے مریض کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
لاہور میں کورونا وائرس کی وجہ سے پہلا مریض جان کی بازی ہار گیا ہے۔ اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے تصدیق کی ہے کہ میو ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیرِ علاج کرونا وائرس کا ایک مریض جاں بحق ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ “میو ہپستال میں کرونا وائرس کا ایک مریض جان کی بازی ہار گیا۔ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں مشکل حالات چل رہے ہیں اور اپنے گھروں میں رہ کر اس مشکل سے لڑا جا سکتا ہے۔”


واضح رہے ملک بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 908 ہوگئی ہے. پنجاب میں آج کورونا وائرس کے مزید 19 کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد 265 ہوگئی ہے جس کی تصدیق پنجاب کے محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے مبتلا افراد میں 176 زائرین شامل ہیں جب کہ لاہور میں 59، ملتان 2، راولپنڈی 2، گجرات، 12، جہلم 3، گوجرانوالہ، 7، سرگودھا 1، فیصل آباد 1، منڈی بہاؤ الدین 1 اور رحیم یار خان میں ایک کیس ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس سے اب تک 7 افراد جاں بحق جبکہ 6 ہی صحت یاب ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 3 کا تعلق پشاور، ایک کا لاہور، ایک کا کراچی، ایک کا بلوچستان اور ایک کا گلگت بلتستان سے ہے۔ اس وائرس سے ملک بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 908تک جاپہنچی ہے جبکہ 7 افراد انتقال بھی کرچکے ہیں، جس میں حالیہ انتقال کے سوا دیگر 3 کا تعلق خیبرپختونخوا، ایک کا سندھ، ایک کا گلگت بلتستان اور ایک بلوچستان سے ہے اگر ملک میں مجموعی تعداد پر نظر ڈالیں تو اس وائرس سے سب سے زیادہ صوبہ سندھ متاثر ہے جہاں متاثرین کی تعداد 394 ہے جبکہ پنجاب 265 متاثرین کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے.اسی طرح بلوچستان میں 110 افراد جبکہ خیبرپختونخوا میں 38 افراد وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اسلام آباد میں 15 اور آزاد کشمیر میں ایک شخص متاثر ہے اگر تازہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گلگت بلتستان میں 9 مزید کیسز رپورٹ ہونے سے علاقے کے متاثرین کی تعداد 80 ہوگئی.کورونا وائرس کے باعث اگر پاکستان کی مجموعی صورتحال کی بات کریں تو اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے چاروں صوبوں، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج تعینات کردی گئی ہے اگرچہ وزیراعظم عمران خان ملک بھر میں مکمل لاک ڈاﺅن سے انکار کرچکے ہیں تاہم صوبوں اور دیگر علاقوں کی جانب سے اپنی حدود میں لاک ڈاﺅن اور مختلف طرح کی پابندیاں عائد کردی گئی ہیں.وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ سندھ میں 23 مارچ سے 15 روز کیلئے مکمل لاک ڈاﺅن کا آغاز ہوچکا ہے اسی طرح پنجاب میں بھی لاک ڈاﺅن جاری ہے ‘ ڈاؤن کے دوران تمام کاروباری مراکز، شاپنگ مالز، نجی و سرکاری دفاتر، پارکس، ٹرانسپورٹ، دکانیں بند ہیں، بلاضرورت گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے جبکہ ریسٹورنٹس کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، ساتھ ہی ڈبل سواری پر بھی پابندی لگادی گئی ہے. پنجاب لاک ڈاﺅن کے باوجود صوبائی حکومت اسے لاک ڈاﺅن کا نام نہیں دے رہے لیکن اس 14 روزہ پابندیوں کے دوران تمام شاپنگ مالز، بازار، نجی و سرکاری ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس، پارکس، سیاحتی مقامات بند رہیں گے جبکہ ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی.بلوچستان میں بھی کاروباری مراکز بند کرنے اور ٹرانسپورٹ سروسز کو بھی معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے، اسی طرح خیبرپختونخوا میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا.اس کے علاوہ اسلام آباد میں بھی دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف پابندیاں لگادی گئی ہیں جبکہ گلگت بلتستان میں غیرمعینہ مدت جبکہ آزاد کشمیر میں 3 ہفتوں کا مکمل لاک ڈاﺅن ہے.یاد رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس 26 فروری 2020 کو کراچی میں سامنے آیا تھا اور26 فروری کو ہی معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں مجموعی طور پر 2 کیسز کی تصدیق کی تھی.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close