استعمال شدہ پلاسٹک سے بنائی گئی سڑک

اسکاٹ لینڈ کی ایک کمپنی پچھلے چند سال سے استعمال شدہ پلاسٹک بوتلوں کے ذریعے سڑکیں بنا رہی ہے جن کے بارے میں اس کا دعوی ہے کہ یہ روایتی سڑکوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ پائیدار ہوتی ہیں۔
میک ریبر نامی کمپنی کے بانی ٹوبی مکارتھی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اوّل تو وہ اپنے بچوں کو پلاسٹک سے بھرے سمندر دکھانا نہیں چاہتے؛ اور دوم انہوں نے ہندوستان میں کچھ لوگوں کو سڑک کے گڑھے بھرنے کےلیے پلاسٹک پگھلا کر استعمال کرتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے اسکاٹ لینڈ میں اپنے دو دوستوں کی مدد سے اسی تکنیک کو بہتر کرنے پر کام شروع کیا تاکہ پلاسٹک سے سڑکیں بنانے کا کوئی ماحول دوست طریقہ وضع کیا جائے۔ جلد ہی انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ ایک خاص ’’ایکٹیویٹر‘‘ ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے جسے پیٹنٹ بھی کروا لیا گیا۔
وہ صنعتی اور گھریلو قسم کے استعمال شدہ پلاسٹک کو پہلے خاص مشین کی مدد سے انتہائی باریک ٹکڑوں میں توڑتے ہیں جو زیادہ سے زیادہ 5 ملی میٹر جتنے ہوتے ہیں۔ پھر ان ٹکڑوں اور ’ایکٹیویٹر‘ کا آپس میں کیمیائی عمل کروایا جاتا ہے جس سے حاصل ہونے والا مادّہ بالکل بٹومن/ ڈامر جیسا ہوتا ہے جو سڑکیں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔
اب تک وہ استعمال شدہ پلاسٹک سے کئی کلومیٹر طویل سڑکیں بنا چکے ہیں جو خاصی پائیدار بھی ثابت ہورہی ہیں لیکن تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک سے بنی سڑکوں کی پائیداری صرف سرد ممالک تک ہی محدود ہوگی جب کہ مشرقی ممالک کے گرم اور تیز دھوپ والے ماحول میں یہ سڑکیں شاید بہت جلد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں۔
ایک اندازے کے مطابق، اس وقت دنیا بھر میں 9 ارب ٹن کے لگ بھگ پلاسٹک، مختلف شکلوں میں موجود ہے جس میں 7 ارب ٹن پلاسٹک استعمال شدہ ہے جو یا تو سمندروں میں پھینک دیا گیا ہے یا پھر زمین پر کچرا ٹھکانے کےلیے بنائے گئے بڑے بڑے گڑھوں (لینڈ فلز) میں دبایا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close