جان لیوا کرونا وائرس ملک بھر میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے

وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کو ان کے موبائل پر کرونا الرٹ میسج بھیجنا شروع کر دئیے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مہلک وائرس ملک بھر میں بڑی تیزی کے ساتھ اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کو کرونا وائرس الرٹ میسج بھیجا گیا ہے ان میں کرونا وائرس موجود ہونے کا خدشہ ہے۔ حکومت نے تصدیق کی ہے کہ جن لوگوں کو کرونا الرٹ کا پیغام موبائل پر ملا ہے وہ اسے سنجیدہ لیں کیونکہ اسکا مطلب ہے کہ آپ کا رابطہ کسی کرونا مریض سے ہوا تھا اور آپ خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد تک رسائی کیلئے فون ٹریکنگ کی مدد لی جارہی ہے۔ ایک صارف جو کہ لمز یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں، نے ٹویٹر پر ایک میسج کا سکرین شاٹ شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت فون ٹریکنگ کا سہارا لے رہی ہے، پروفیسر نے حکومت کی جانب سے بھیجا جانے والا میسج شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “دیکھنے میں آیا ہے کہ آپ ماضی قریب میں کسی کرونا کے مریض کے قریب رہے ہیں یا اس سے ملے ہیں، کرونا وائرس 14دن علامات ظاہر کر سکتا ہے، اس لیے آپ حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔
اس حوالے سے حکومت کے ترجمان شہباز گل نے تصدیق کی ہے کہ جی ہاں ایسا ہی ہے۔ یعنی کہ حکومت کرونا کے متاثرین تک پہنچنے کیلئے لوگوں کے فون ٹریک کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے بھی اپنے ٹویٹر پیغام میں تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہدایت ملنے پر پی ٹی اے ایسے لوگوں کو الرٹ میسج بھیج رہی ہے جو کہ ماضی قریب میں کسی کرونا مریض سے رابطے میں آئے تھے۔
دوسری جانب پوری دنیا میں تباہی مچانے والے کروناوائرس کی تباہ کاریوں کا سلسلہ اب پاکستان میں بھی جاری ہے جس کے بعد ابھی تک اس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1039 سے تجاوزگئی ہے جبکہ 7 افراد کرونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں ہر گزرتےدن کے ساتھ کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے بعد ابھی تک صورتحال کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔ تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ متاثرہ مریضوں سے ملنے میں احتیاط نہیں برت رہے جس سے وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اس بد احتیاطی کی ایک تازہ ترین مثال مردان میں دیکھنے میں آئی جہاں 50سالہ سعادت خان کرونا وائرس کے باعث جاں بحق ہوا۔ سعادت خان مردان میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج تھا اور موت سے چند روز قبل عمرے کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے پاکستان پہنچا تھا۔سعادت سے وائرس ہزاروں افراد میں میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔سعادت خان سعودی عرب میں دو سے تین ہفتے رہا اس دوران بخار سمیت کرونا کی علامتیں ظاہر ھونے کے باوجود اسنے انہیں پوشیدہ رکھا،مرحوم کے ساتھ سفر کرنے وسلے درجنوں مسافروں نے بھی کرونا کی علامات ہونے کی تصدیق کی ہے۔
9 مارچ کو عمرے سے پاکستان واپسی پر سعادت خان گاؤں میں ایک تقریب میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں سے ملا۔کھانے کی دعوت پر خاندان والوں سمیت گاؤں کے دو ہزار سے زائد افراد موجود تھے۔16 مارچ کو سعادت خان بخار کھانسی اور سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال گیا جہاں اس نے کرونا ہونے کی علامتوں کے باوجود قرنطینہ میں جانے سے انکار کردیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔
17مارچ کو طبیعت بگڑنے پرسعادت کو دوبارہ اسپتال جانا پڑا اور 18 مارچ کو ٹیسٹ کے نتائج میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی جس کے بعد اسے آئسولیشن سینٹر بھیجا گیا لیکن وہ چل بسا۔ افسوس کی بات یہ یے کہ بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد بھی سعادت خان اپنے بیٹوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہا۔ سعادت بغیر کسی ڈاکٹری تعلیم کے گاؤں میں کلینک بھی چلاتا تھا۔ باپ کے گھر پر ہونے کے دوران بیٹے کلینک پر مریضوں کوبھی چیک کرتے رہے جس کے باعث وائرس مریضوں اور ان کے ذریعے دیگر افراد میں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اب سعادت خان کے اہلخانہ اور دوستوں میں بھی کرونا کا وائرس ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے جس کے بعد مردان کی منگاہ یونین کونسل کے قرنطینہ سینٹر میں منتقل کیے جانے والے سینکڑوں افراد کی سکریننگ کی جارہی ہے۔ اب تک یہ وائرس مرنے والے سعادت خان کے بیٹے، بیٹی اور بہو کے علاوہ موصوف کے ساتھ عمرہ سے واپس آنے والے ان کے ساتھیوں میں بھی سرایت کر چکا ہے جس کے بعد سب مریضوں کو مختلف قرنطینہ سنٹروں میں خصوصی وارڈ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close