پاکستان کی کابل میں سکھوں پر دہشت گرد حملے کی مذمت

پاکستان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سکھوں کی عبادت گاہ پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہوں پرحملے کا کوئی سیاسی اورمذہبی جواز نہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، عبادت کی تمام جگہیں مقدس ہیں اور ان کا تحفظ ہرصورت میں یقینی بنایا جائے۔
دفترخارجہ کی جانب سے متاثرہ افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت بھی کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ کابل میں سکھوں کی دھرم شالا پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے جس سے11 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے4 دہشت گرد بھی مارے گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آرائیں نے اپنے بیان میں کہا کہ حملہ مقامی وقت صبح کے7:45 منٹ پر کیا گیا۔ حملے کے نتیجے میں لوگ عمارت کے اندر محصور ہو کر رہ گئے جن کو نکالنے کےلیے سکیورٹی آپریشن کیا گیا۔
حملہ عین اس وقت کیا گیا ہے جب افغان حکومت کو اپنے ملک میں قیام امن کےلیے سینکڑوں مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان میں300 کے لگ بھگ سکھ خاندان رہائش پذیر ہیں اور ماضی میں بھی انہیں دہشتگردی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
سال2018 میں افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close