کرونا وائرس نے سپر پاور امریکہ کو بھی ناک آؤٹ کر دیا

کچھ عرصہ پہلے تک کرونا وائرس کو ایک سیاسی افواہ قرار دینے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ملک امریکہ اب اسی وائرس کے ہاتھوں زیر ہوتا نظر آتا ہے۔
ماضی قریب تک سپر پاور سمجھے جانے والے امریکہ کو ہر لحاظ سے ایک محفوظ ملک تصور کیا جاتا تھا لیکن کرونا وائرس کی بڑھتی ہوئی وباء کے بعد اب لوگ امریکہ میں بھی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ اب تک امریکہ میں کرونا وائرس سے 280 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس وائرس سے 20ہزار سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک صرف سات ہے۔
تازہ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں لوگ خوفزدہ ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کیسے ایک وائرس کے ہاتھوں زیر ہو رہی ہے۔ امریکہ کے وفاقی تحفظ صحت ایجنسی کے بیماریوں پر قابو پانے اور بچانے والے ادارے کے سابق ڈائریکٹر ٹام فرائیڈن نے یہ پیشگوئی کی ہے کہ امریکہ کی آدھی آبادی کووڈ-19 وائرس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے اور ایک ملین سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔
دو ماہ پہلے تک چین اس وائرس پر قابو پانے کی تگ ودو میں تھا تاکہ اموات سے بچا جا سکے۔ تاہم صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ٹیسٹ کرنے اور بچاو کی تدابیر اختیار کرنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی۔ صورتحال تیزی سے بدلی ہے۔ امریکہ میں ہیلتھ کیئر سے شروع ہونے والی کئی دن کی سیاسی گہما گہمی والی بحث آخر میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ پر ختم ہوئی۔ ہیلتھ کیئر ایجنسی نے کرونا وائرس سے متعلق اپنا ٹیسٹ کا نظام متعارف کرایا لیکن مینوفیکچرنگ خامیوں کی وجہ سے ابتدائی ٹیسٹ کے حاصل ہونے والے نتائج بے نتیجہ ہی رہے۔رپورٹس کے مطابق کاٹن سویب، دستانوں گلوز اور دیگر آلات کی کمی کی وجہ سے کرونا کے ٹیسٹ مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو رہے ہیں۔
جیسے جیسے لوگوں نے حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھانے شروع کیے تو صدر ٹرمپ نے اجلاس اور کانفرنسز شروع کردیں اور کیمروں کے سامنے اپنی انتظامیہ کو متحرک کر دیا۔ امریکی صحافی ڈیوڈ ویلاس ویلس نے اپنے ایک کالم میں صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کی خوب خبر لی۔ انھوں نہ لکھا کہ یہ کتنا افسوسناک ہے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں کا نظام نجی کمپنیوں اور مخیر افراد کے ہاتھوں یرغمال ہو کر رہ گیا ہے جہاں امریکہ میں بھی ضرورت کے اس وقت میں اس وبا سے متعلق ضروری طبی امداد فراہم کریں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایسا ملک ہے جہاں اگر آپ کی انشورنس نہیں ہے تو آپ انتہائی خطرے میں ہیں کیونکہ امریکہ میں صحت کی سہولیات بہت زیادہ مہنگی ہیں تاہم سنہ 2018 تک امریکہ میں ایک اندازے کے مطابق 27.5 ملین لوگ جو کہ کل آبادی کا 8.5 فیصد بنتے ہیں نے ہیلتھ انشورنس نہیں کرا رکھی ہے۔
امریکہ میں پانچ لاکھ بے گھر امریکی جو کیمپ، پناہ گاہوں اور گلیوں میں رہتے ہیں ان کےاس وبا کا شکار ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔اگرچہ صدر ٹرمپ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ملین کے حساب سے ماسک تیار کیے جارہے ہیں تاہم زمینی حقائق یکسر مختلف ہیں۔ ایسی افسوسناک اطلاعات بھی ہیں کہ امریکی ریاست سیٹل میں ڈاکٹر پلاسٹک شیٹ سے اپنے لیے ماسک خود تیار کر رہے ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق صحت اور ہسپتال سے متعلق ایسوسی ایشن نے کنسٹرکشن کمپنیوں، دانتوں اور جانوروں کے ڈاکٹرز سمیت دیگر گروپس جن کے پاس ماسک ہو سکتے ہیں سے ماسک عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بہت سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ انھیں محض صرف ایک ماسک ہی دیا جا رہا ہے جسے وہ لامتناہی وقت کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اسے صاف کر کے دوبارہ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ کتنا موثر ہو سکتا ہے۔ شگاگو میں ایک میڈیکل سنٹر پر ہسپتال کے عملے نے ’واش ایبل لیب گوگلز‘ استعمال کرنے شروع کر دیے ہیں۔بروکلن میں ڈاکٹرز نے بتایا کہ ماسک کی سپلائی کم ہونے کی وجہ سے وہ ایک ہفتے تک ایک ماسک کو استعمال کرتے رہے۔
یہاں تک کہ امریکی محکمہ صحت سی ڈی ایس نے یہ اعلان کرنے کی بھی کوشش کی کہ ماسک کی کمی کی وجہ سے اگر ضروری ہو تو منہ کو ڈھانپنے کے لیے کپڑے اور سکارف کا استعمال کیا جائے۔ سی ڈی ایس کے مطابق جہاں ماسک دستیاب نہ ہوں تو پھر آخری آپشن کے طور پر گھر کے بنائے ماسک بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں تاکہ کووڈ-19 کے متاثرہ مریضوں کی بہتر دیکھ بھال کی جا سکے۔
کرونا وائرس کے متاثرہ مریض جب سانس لینے میں تکلیف محسوس کرتا ہے تو پھر ایسے میں وینٹیلیٹر انتہائی زیادہ ضروری ہو جاتے ہیں۔ امریکہ کے پاس اس وقت 160،000 وینٹیلیٹرز ہیں جن میں سے 89،000 ابھی سٹاک میں رکھے ہوئے ہیں جبکہ اس کے علاوہ بہت زیادہ وینٹیلیٹر کی ضرورت ہے۔
امریکہ میں ہسپتال سے متعلق ایسوسی ایشن کے مطابق امریکہ بھر کی ہسپتالوں میں 924،107 بستر اور 46،825 بستر میڈیکل سرجیکل انٹینسو کیئر والے ہیں اور 50،000 سے زائد کارڈیالوجی اور دیگر امراض کے لیے بستر دستیاب ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ موجودہ اور مطلوبہ بستر کی تعداد میں بڑا فرق ہے کیونکہ امریکہ کے پاس ایک ہزار افراد کے لیے تقریباً 2.8 بستر دستیاب ہیں۔ اتنے ہی افراد کے لیے جنوبی کوریا کے پاس 12 بستر سے زائد دستیاب ہیں۔ چین کے پاس ایک ہزار افراد کے لیے 4.3 بستر دستیاب ہیں۔
ماہرین کی طرف سے اس طرح کے تجزیہ کرکے ٹرمپ انتظامیہ پر صحت کے شعبے میں بہتری کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کیلئے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close