کورونا سے صحت یاب افراد کا پلازما علاج کےلیے استعمال کرنے پرغور

پاکستان نے بھی چین اور امریکا کے بعد کورونا وائرس سے شدید متاثر افراد کے علاج کےلیے اس بیماری سے صحت یاب ہوجانے والے افراد کا بلڈ پلازما استعمال کرنے پر مشاورت شروع کردی ہے۔ باقاعدہ لائحہ عمل کا اعلان آئندہ 36 گھنٹوں میں متوقع ہے۔
صوبائی وزیرِ صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی اس حوالے سے امراضِ خون کے مشہور پاکستانی ماہر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز اینڈ بون میرو ٹرانس پلانٹیشن کے سربراہ، ڈاکٹر طاہر شمسی سے رابطوں کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر طاہر شمسی سے اس ضمن میں تمام تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ کسی بھی نئی وبا کی ویکسین دستیاب ہونے میں کم از کم 18 ماہ لگ جاتے ہیں جب کہ ہنگامی حالات کے پیشِ نظر اس وبا سے صحت یاب ہوجانے والوں کا بلڈ پلازما (خوناب) شدید متاثرین میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ اس بلڈ پلازما میں موجود متعلقہ اینٹی باڈیز، متاثرہ شخص میں وقتی طور پر اس نئی بیماری کے خلاف مدافعت (امیونیٹی) پیدا کرسکیں۔
اس تکنیک کو غیر عامل امنیت کاری (Passive Immunization) کہا جاتا ہے۔
اس طریقہ کار کو 1918 کے اسپینش فلو کی وبا کے دوران ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔ اس طریقہ کار میں اس حقیقت کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت مند مریضوں کے خون میں ایسے طاقتور اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو وائرس کو لڑنے کی تربیت رکھتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت نئے نوول کورونا وائرس کا کوئی علاج موجود نہیں جبکہ ویکسین کی دستیابی اس سال کے آخر یا اگلے سال کی پہلی ششماہی تک ممکن نظر نہیں آتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close