میر شکیل الرحمان کو مزید نیب کی قید میں رہنا پڑے گا

لاہور کی احتساب عدالت کی جانب سے اراضی الاٹمنٹ کیس میں دو ہفتے کا مزید جسمانی ریمانڈ دئیے جانے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کے عتاب کا شکار جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کی قید لمبی ہوتی نظر آتی ہے۔
25 مارچ کے روز دو ہفتے کا ریمانڈ مکمل ہونے پر نیب نے میر شکیل الرحمان کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا تو نیب کورٹ نے ان کا مزید دو ہفتے کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور اس میں 7 اپریل تک توسیع کردی۔ میر شکیل کے خلاف نیب کی درخواست پر سماعت احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے کی۔ دوران سماعت میرشکیل کے وکیل نے استدعا کی کہ انہیں اپنے مؤکل سے مشاورت کرنے کے لیے کچھ وقت فراہم کیا جائے، جس پر عدالت نے میر شکیل اور ان کے وکیل کو آپس میں مشاورت کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت کچھ دیرکےلیےملتوی کر دی۔
وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے الزام عائد کیا کہ میر شکیل نے جو زمین خریدی وہ غیرقانونی طورپر ٹرانسفر کی گئی تھی اور ایل ڈی اے نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف کے حکم پر یہ زمین دی۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس وقت ایل ڈی اے سے یہ غلطی ہوئی کہ اس نے بیک وقت تمام 54 کنال زمین میر شکیل کے نام کرنے کا حکم دیا اور ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کا خیال نہیں رکھا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے مزید کہا کہ میرشکیل کو زمین تین مختلف جگہوں پر الاٹ کی گئی لیکن انہوں نے زمین غیر قانونی طور پر ایک ہی جگہ پر الاٹ کروالی۔
عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ قانون کے مطابق دلائل دیں سیاسی باتیں نہ کریں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے سابق ڈی جی ایل ڈی اے کو انکوائری کے لیے بلوایا اور ان سے کہا کہ ہمیں تمام ریکارڈ فراہم کر دیں، ہم وہ تمام ریکارڈ ملنے پر دیکھ کرتفصیلی جواب دیں گے۔ نیب کے تفتیشی افسر نے میر شکیل کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی جس پر ان کے وکیل نے کہا کہ مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ امجد پرویز ایڈوکیٹ نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ میں توسیع نہ دی جائے، یہ کونسا قتل کا کیس ہے جس میں آلہ قتل برآمد کرنا ہے۔ عدالت نے نیب افسر سے پوچھا کہ پٹواری نے ایل ڈی اے کو قبضہ کب دیا؟ پہلے ایل ڈی اے کو قبضہ ملے گا تب ہی ایل ڈی اے آگے زمین منتقل کرے گا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ کو اب جسمانی ریمانڈ کیوں چاہیے؟ جس پر نیب کے وکیل نے جواب دیا کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے اور میرشکیل کے ریکارڈ کا جائزہ لینا ہے۔ عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر سے کہا کہ ریکارڈ دکھائیں اور بتائیں ایل ڈی اے کو قبضہ کب ملا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ اس اراضی کے کتنے مالک ہیں؟ جس پر نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ اس اراضی کا ایک ہی مالک ہے۔
میر شکیل الرحمان کے وکیل نے اس پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس اراضی کے 7 افراد مالک ہیں، اگر اراضی کا ایک ہی مالک ہوا تو میں عدالت سے باہر چلاجاؤں گا۔ میر شکیل کے وکیل امجد پرویز بٹ نے کہا کہ نیب کا الزام ہی درست نہیں ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ پھر تو کیس کی نوعیت ہی تبدیل ہو جاتی ہے۔ میر شکیل کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب کی تاریخ میں پہلی بار ایسا کیس سامنے آیا ہے جس کا بنیادی مقصد میر شکیل کو سبق سکھانا اور انتقام لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب نے ذاتی طور پر میر شکیل کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور اپنے ہی بنائے گئے قوانین کی دھجیاں بکھیر دیں۔ وکیل نے مزید کہا کہ میر شکیل تمام ریکارڈ نیب کو فراہم کرچکے ہیں، ان کو جب بھی نیب نے بلوایا وہ پیش ہوئے لیکن احتساب بیورو نے قانون سے ماورا ہو کر کارروائی کی۔
جنگ جیو کے ایڈیٹر انچیف کے وکیل نے اپنے دلائل میں سوال کیا کہ کیس کی تفتیش کے دوران گرفتاری کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے؟ یہ واحد کیس ہے جس میں چیئرمین نیب کو اتنی جلدی تھی کہ انہوں نے کیس کے حقائق کی تصدیق کیے بغیر ہی میر شکیل کو گرفتار کرلیا۔
امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ میر شکیل کی گرفتاری بادی النظرمیں غیرقانونی تھی کیونکہ برصغیر کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی کو انکوائری کی سٹیج پر ہی گرفتار کر لیا جائے۔ احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد میر شکیل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا جو کچھ دیر بعد سناتے ہوئے جسمانی ریمانڈ میں 7 اپریل تک توسیع کردی۔
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے 12 مارچ کو 34 برس قبل مبینہ طور پر حکومتی عہدے دار سے غیرقانونی طور پر جائیداد خریدنے کے کیس میں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو حراست میں لیا۔ ترجمان جنگ گروپ کے مطابق یہ پراپرٹی 34 برس قبل خریدی گئی تھی جس کے تمام شواہد نیب کو فراہم کردیے گئے تھے جن میں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے قانونی تقاضے پورے کرنے کی دستاویز بھی شامل ہیں۔ ترجمان جنگ گروپ کا کہنا ہے کہ میر شکیل الرحمان نے یہ پراپرٹی پرائیوٹ افراد سے خریدی تھی، میر شکیل اس کیس کے سلسلے میں دو بار خود نیب لاہور کے دفتر میں پیش ہوئے، دوسری پیشی پر ان کو جواب دینے کے باوجود گرفتار کر لیا گیا، تعجمان نے سوال کیا کہ نیب نجی پراپرٹی معاملے میں ایک شخص کو کیسےگرفتار کر سکتا ہے جب کہ نیب کا دائرہ اختیار قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کیسز کے حوالے سے ہے۔ ترجمان نے کہا کہ میر شکیل کو ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں گرفتارکیاگیا اور وہ قانونی طریقے سے سب کو بےنقاب کریں گے۔ یاد رہے کہ اس کیس میں نیب کو شکایت کرنے والا شخص اسد کھرل جعلی ڈگریاں بنانے والی کمپنی ایگزیکٹ کے بول ٹی وی میں کام کرتا ہے۔
میر شکیل الرحمان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس بنیادی طور پر چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ایما پر تیار کیا گیا ہے جو کہ جیو ٹی وی کے شاہ زیب خانزادہ کی جانب سے ان کی مبینہ قابل اعتراض ویڈیوز کا معاملہ اٹھانے پر نالاں تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close