کورونا وائرس کے بحران کا اختتام قریب تر ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی عوام کو امید دلاتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے بحران کا اختتام قریب تر ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب امریکا میں کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ میں ایسا ملک چاہتا ہوں جو کھلا ہو اور ایسٹر تک مجھے ایک روشنی نظر آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسٹر پر بھرے ہوئے گرجا گھر دیکھنا چاہتے ہیں جو تین ہفتوں بعد 12 اپریل کو ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنی انتخابی مہم کی بحالی چاہتے ہیں، نے کہا کہ سماجی دورے سے امریکی معیشت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک شٹ ڈاون کےلیے نہیں بنا، آپ کسی بھی ملک کو بند کرکے اسے تباہ کرسکتے ہو۔
سماجی دوری اور قرنطینہ کے اقدامات تقریباً پورے امریکا میں ہی ’ایک تہائی آبادی کےلیے گھروں پر رہنے کے احکامات کے ساتھ‘ اٹھائے جارہے ہیں جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت رک گئی ہے۔
سروے نتائج کے مطابق 74 فیصد امریکیوں نے بڑے اجتماعات سے گریز کرنا شروع کردیا ہے جبکہ دیگر 48 فیصد نے سفر کے منصوبے کو ترک کردیا ہے جس کی وجہ سے ایئرپورٹس اب صحرا کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
اس شٹ ڈاون سے متاثر ہونے والی ایک اور نمایاں چیز صدارتی انتخابات کی مہم ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کو ملک بھر میں بڑی ریلیاں منسوخ کرنی پڑیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے مطابق کورونا وائرس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دی جارہی ہے اور کہا کہ ’ہم اس سے زیادہ گاڑیوں کے حادثوں میں جانیں کھو دیتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم آٹو موبائل کمپنیوں کو کہیں کہ آپ گاڑیاں بنانا چھوڑ دیں‘۔ بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ایسٹر کے ہدف سے پیچھے ہٹتے ہوئے ماہر وبائی امراض کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’ہم یہ اس وقت کریں گے جب بہتری آجائے گی دوبارہ کھولا جانا ریاست کے کچھ حصوں تک محدود رہے گا۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وجہ پیدا ہونے والی معاشی صورت حال و عوامی مشکلات کے پیش نظر امریکی سینیٹ اور وائٹ ہاؤس کے مابین 20 کھرب ڈالر کے امدادی پیکج کی منظوری کا معاہدہ ہوچکا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا کورونا وائرس سے اب تک 55ہزار 225 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ ان میں سے 802 افراد ہلاک اور 354 مکمل صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔
اس کے علاوہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے اب تک 4 لاکھ 28 ہزار سے زائد کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں سے 19 ہزار 120 سے زائد افراد ہلاک اور ایک لاکھ 9 ہزار سے زائد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close