کرونا کے معاملے پر کپتان اوراسٹیبلشمنٹ کے مابین کشیدگی بڑھ گئی

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے اہم قومی معاملے میں انتہا درجے کی حکومتی مس مینجمنٹ اور نااہلی سامنے آنے پر مقتدر حلقوں اور وزیراعظم عمران خان کے مابین کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔
باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مقتدر حلقوں نے اس مس مینجمنٹ پر وزیر اعظم کو وزیراعلیٰ عثمان بزدار، پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اعظم خان اور سمندر پار پاکستانیوں کے اُمور بارے وزیراعظم کے مشیر زلفی بخاری کو انتہائی ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے ان سے جان چھڑوانے کا کہا ھے۔ تاہم کپتان نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں دیا جس سے باہمی چپقلش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
اقتدار کے ایوانوں سے خبر ہے کہ مہلک کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر حکومتی ناکامی اور ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے وزیراعظم کے انکار کے باعث کپتان اور مقتدر قوتوں کے درمیان کشیدگی انتہا کو پہنچ گئی ھے۔ چنانچہ ملکی سیاست میں فیصلہ کن کردار کی حامل قوتوں نے غیر اعلانیہ معاملاتِ اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور تین اہم حکومتی عہدیداروں کو فوری ہٹانے کا مطالبہ بھی کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 22 مارچ کو وزیراعظم کی طرف سے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کی اعلانیہ ضد پر انہیں مقتدر حلقوں کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد صوبائی حکومتوں بالخصوص پنجاب میں انتظامی معاملات مقتدر قوتوں کو خاموشی کے ساتھ براہ راست اپنے ہاتھ میں لینا پڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو بار بار کہا گیا کہ وہ کرونا وائرس سے جنم لینے والی ایمرجنسی کی سنگین صورتحال کے پیش نظر فی الفور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیں جبکہ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کی حکومتیں براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے کنٹرول میں ہیں لیکن وزیراعظم لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے پر اڑے رہے، پہلے کپتان کے نئے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف نے پریس کانفرنس میں دو ٹوک کہا کہ شہروں کو لاک ڈاؤن نہیں کیا جا رہا اور پھر اگلے 48 گھنٹوں کے دوران خود وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں لاک ڈاؤن نہ کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔
تاہم اس اعلان کے تھوڑی ہی دیر بعد وڈیو لنک پر کرونا وائرس ایشو کے یک نکاتی ایجنڈے پر ہنگامی کور کمانڈرز کانفرنس میں وزیر اعظم کی کنفیوژڈ حکمتِ عملی کا سخت نوٹس لیا گیا اور سویلین لیڈر شپ کے طرز عمل پر شرکاء کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اعلی عسکری شخصیات نے بیڈ گورننس کے باوجود عثمان بزدار اور محمود خان کو وزرات اعلی سے نہ ہٹانے پر بھی تنقید کی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان اور وزیر اعظم کے مشیر زلفی بخاری کی جانب سے کپتان کو غلط مشورے دینے اور تفتان بارڈر سے شیعہ زائرین کو مبینہ طور پر نکلوانے اور ملک بھر میں کرونا پھیلانے کی پاداش میں فوراً گھر بھجوانے پر زور دیا گیا۔
با خبر ذرائع کا کہنا ہے متذکرہ کور کمانڈرز کانفرنس کے فوری بعد پرائم منسٹر ہاؤس کو ایک واضح پیغام بھجوایا گیا اور مقتدر حلقوں نے خاموشی سے معاملات اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے اسی روز پنجاب حکومت کی طرف سے فوری طور پر آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج طلب کئے جانے کی درخواست پر مبنی رسمی چٹھی ڈرافٹ کروائی اور وزیراعظم کی رضامندی نظر انداز کرتے ہوئے صوبے میں لاک ڈاؤن کروا دیا گیا۔ کہا جاتا ھے اسی دباؤ کے تحت پنجاب کے سکولوں کالجوں سمیت تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں چھٹیاں 31 مئی تک بڑھا دی گئیں ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے پر تیار نہیں ہیں اور کرونا وائرس تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close