تبلیغی جماعت کے اجتماع سے لاکھوں افراد کرونا سے متاثر ہوئے؟

حالیہ دنوں اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں تبلیغی جماعت کے بارہ ارکان میں کرونا وائرس کی تشخیص کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ چند روز قبل لاہور میں ہونے والے تبلیغی اجتماع میں شریک دیگر 8 لاکھ افراد بھی اس مہلک وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں کیونکہ ملائیشیا، انڈونیشیا، برونائی اور سنگاپور میں بھی تبلیغی جماعت والوں کی وجہ سے ہی کرونا وائرس کا جن بوتل سے باہر نکل کر تباہی پھیلا رہا ہے۔
گزشتہ دنوں لاہور میں منع کرنے کے باوجود منعقد ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع میں کم از کم آٹھ لاکھ افراد نے شرکت کی جن میں پندرہ ہزار غیر ملکی شہری بھی شامل تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تبلیغی جماعت کے ارکان میں کرونا وائرس ہونے کی خبر انتہائی تشویشناک ہے اور اگر اس اجتماع میں شرکت کرنے والے صرف ایک فیصد افراد بھی اس وباء کا شکار ہو گئے تو متاثرین کی تعداد آٹھ ہزار بنتی ہے۔ اب ان آٹھ ہزار متاثرین نے اگر آگے دس دس افراد کو بھی کرونا وائرس منتقل کیا ہو تو متاثرین کی تعداد 80000 بن جاتی ہے اور اگر یہ لوگ آگے دس دس افراد کو بھی مرض لگایئں تو کرونا کے متاثرین کی تعداد آٹھ لاکھ پر چلی جاتی ہے یعنی تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت کرنے والے8 لاکھ افراد جتنی۔ اگر ان اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد لاکھوں میں ہے حالانکہ سرکاری طور پر اب تک ملک میں کرونا کے متاثرین کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔
مزید پریشان کن بات یہ ہے کہ اب تبلیغی سرگرمیاں محدود ہونے کے بعد تبلیغی مشن سے وابستہ لاکھوں افراد اپنے اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے ہیں اور ان میں سے ایک بھی فرد کسی قرنطینہ سینٹر میں نہیں رکھا گیا ماسوائے ان بارہ تبلیغی جماعت کے اراکین کے جنہوں نے اسلام آباد کے علاقے بارہ کہو میں اپنے مشن کے دوران کرونا وائرس پھیلایا۔
یاد رہے کہ چند روز قبل بارہ کہو اسلام آباد اور کراچی میں تبلیغی جماعت کے ایسے کارکنان سامنے آئے ہیں جو کرونا وائرس کا شکار ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے ضلع لیہ اور دوسرے شہروں میں بھی تبلیغی اجتماعات منعقد کئے گئے جس کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ لاہور کے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرکے اپنے علاقوں کو جانے والے تبلیغی جماعت کے اراکین بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ کوالالمپور کا تبلیغی اجتماع بھی ملائشیا میں بڑے پیمانے پر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنا۔ چند ہی دنوں میں مشرق بعید کے ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے ملائشیا سرفہرست آگیا جبکہ پہلے یہاں مریضوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔ حکام کے مطابق ملائیشیا میں کرونا سے متاثرہ 60 فیصد افراد کو یہ وائرس اسی تبلیغی اجتماع میں شرکت سے لگا۔ برونائی دارلاسلام میں بھی اس وائرس کا پہلا مریض اسی تبلیغی اجتماع میں شرکت کر کے واپس لوٹا تھا اور اب وہاں ان مریضوں کی کل تعداد 50 کے لگ بھگ ہے جو سب کے سب اس اجتماع میں شریک ہوئے تھے۔ سنگاپور میں کرونا سے متاثرہ پانچ افراد ایسے ہیں جو اس تبلیغی اجتماع میں شریک ہوئے اور مرض کی تشخیص سے پہلے یہ پانچ افراد سنگاپور کی دس مختلف مساجد میں نماز ادا کر چکے تھے ۔ انڈونیشیا میں بھی اس تبلیغی اجتماع سے لوٹنے والے کئی افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی اور سنگاپور کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے اب سنجیدہ حلقوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد میں سے کتنے افراد اجتماع سے کرونا وائرس اپنے ساتھ لے کر گئے ہیں اور ان افراد نے ملک کے طول و عرض میں مزید کتنے شہریوں تک یہ موذی وائرس منتقل کیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگلے چند دنوں اور ہفتوں میں میں تبلیغی جماعت کے اجتماع سے پھیلنے والے کرونا وائرس کے مریض تیزی سے سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
واضح رہے کہ لاہور کے تبلیغی اجتماع سے واپسی پر ان افراد کو کسی بھی شہر میں کسی بھی قرنطینہ مرکز میں نہیں رکھا گیا۔ طبی ماہرین کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ رائیونڈ تبلیغی اجتماع میں شریک تمام افراد کی سکریننگ کی جائے تاکہ موذی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد مل سکے بصورت دیگر تبلیغی جماعت والے جس طرح گھر گھر جاکر کر تبلیغ کر رہے ہیں اس سے کرونا وائرس مزید بے قابو ہونے کا خدشہ ہے لہذا تبلیغ کے اس سلسلے پر بھی پابندی لگائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close