کشمیر میں لاک ڈاؤن کرنے والا بھارت 21روز کیلئےمکمل لاک ڈاؤن

20 کروڑ آبادی والے پاکستان میں کرونا وائرس سے 8 افراد کی اموات کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے ملک کو مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایک ارب نفوس پر مشتمل ملک میں دس ہلاکتوں کے بعد پورے بھارت کو 21 روز کے لئے مکمل طور پر لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔
بھارت میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر 21 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئےبھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ کرفیو کی ایک قسم ہے لیکن کرفیو سے کہیں زیادہ سخت ہوگا کیونکہ کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے یہ قدم اٹھانا ضروری ہے۔ مودی نے کہا کہ 22 مارچ کو ہم نے جنتا کرفیو عائد کیا تھا جسے کامیاب کرنے میں ہر شہری نے کردار ادا کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ کرونا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ کرونا وائرس کی چین کو توڑنے کے لیے ملک بھر میں مکمل کرفیو نافذ کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو کے فیصلے میں مزید تاخیر کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے اور یہ قیمت کیا ہوگی اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔
دوسری طرف پاکستانی یے وزیراعظم عمران خان کا اصرار ہے کہ ابھی ملک میں کرفیو تو کیا مکمل لاک ڈاؤن کی بھی ضرورت نہیں چونکہ جن ممالک میں لاک ڈاون ہوا اور کرفیو لگا وہاں سینکڑوں اور ہزاروں اموات ہوچکی تھی جبکہ پاکستان میں ابھی دس لوگ بھی ہلاک نہیں ہوئے۔
دوسری طرف نریندر مودی نے نے اپنے 22 مارچ کے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کو کرفیو میں بدلتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ 25۔مارچ سے پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا اور آج رات کے بعد سے عوام گھروں سے نہیں نکل سکیں گے۔ اپنے اس فیصلے کی توجیہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں اس وائرس نے 67 روز میں ایک لاکھ افراد کو متاثر کیا لیکن اگلے 11 روز میں ہی مزید ایک لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے، جبکہ متاثرین کی تعداد 2 سے 3 لاکھ ہونے میں صرف 4 روز لگے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور پھر اسے روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے 519 افراد متاثر جبکہ 10 افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔ کرونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا جس سے چین میں 3 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔ چین نے صوبہ ہوبے کو لاک ڈاؤن کر کے وائرس پر قابو پا لیا لیکن اس کے بعد سے یہ وائرس مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ممالک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔اب تک یہ وائرس 190 سے زائد ملکوں میں پھیل چکا ہے جس کے نتیجے میں 17 ہزار سے زائد افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 4 لاکھ افراد اب تک وائرس کی زد میں آچکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close