معاشی پیکج: پیٹرولیم مصنوعات اگلے 3 ماہ میں مزید سستی ہوں گی

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے وزیراعظم کے اعلان کردہ معاشی پیکج کے حوالے سے کہا ہے کہ سوا کھرب روپے کے پیکج میں کم آمدنی اور کاروباری افراد کو سہولت دی جائے گی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوں گی۔
اسلام آباد میں وزیر تجارت عبدالرزاق داؤد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ نے کہنا کہ ‘ہماری معیشت ایک اچھے انداز میں مستحکم ہورہی تھی، پچھلے 8 مہینوں میں برآمدات میں اضافہ ہوا اور بیرونی سرمایہ کاری بھی 4 ارب ڈالرز تک پہنچی’۔انہوں نے کہا کہ ‘کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب سے کم ہو کر 3 ارب رہ گیا، 4 ہزار ارب کے قرضے بھی ادا کیے گئے اور ادائیگیوں کا توازن بھی مثبت رہا’۔
عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ‘سرمایہ تاریخ میں اس سے پہلے کبھی بھی 8 ماہ میں اتنا جمع نہیں ہوا تھا جتنا پچھلے 8 ماہ میں کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 70 فیصد بڑھ گیا تھا، اسی سے این ایف سی کے ذریعے صوبوں کو پیسے دیے گئے اور اسٹیٹ بینک کے خزانے میں 5 ارب ڈالر اضافہ ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان کی معیشت کے حوالے سے یہ تمام چیزیں مثبت خبر کے طور پر ابھر رہی تھیں، دنیا میں سراہا جارہا تھا کہ پاکستان کی معیشت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے’۔کوروناوائرس سے معیشت کو پہنچنے والے نقصانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے مسئلے سے معیشت پر برے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ وہ ممالک جہاں ہم برآمد کررہے ہیں ان کی معیشت کمزور ہورہی ہے جس سے ہماری برآمدات میں کمی آئے گی’۔انہوں نے کہا کہ ‘بیرون ملک سے ہمارے ورکر جو پیسے بھیج رہے تھے اس میں پچھلے 4 ماہ سے اضافہ ہورہا ہے جس میں کمی آسکتی ہے، اسی طرح ہمارے ملک میں اقتصادی سرگرمیاں کم ہوں گی اور ٹیکس بھی کم ہوگا’۔
حکومت کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘وزئراعظم نے جو پروگرام پیش کیا تھا وہ سوا کھرب کا پیکج ہے اور اس کے بنیادی نکات میں مزدور اس موقع پر اپنی روزگار کھو دیں گے، اس کے متاثرین کے لیے ہم 200 ارب روپ رکھ رہے ہیں جو کاروباری برادری اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت سے دیا جائے گا’۔وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ 200 ارب وفاق دے گا جبکہ صوبائی حکومتیں دینا چاہیں تو وہ الگ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘برآمد کنندگان کو ایک سو ارب روپے کا ٹیکس ریفنڈ فوری طور پر دیں گے تاکہ ان کا کام نہ رکے’۔انہوں نے کہا کہ ‘چھوٹے کاروبار اور زراعت کے شعبے کے لیے بھی ایک سو ارب روپے کا پیکیج رکھ رہے ہیں اور زراعت کے شعبے میں کوشش ہوگی کہ کھاد کی قیمت کم کی جائے اور دوسرے پہلوؤں سے بھی مدد کی جائے’۔پیکج کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘چھوٹے کارخانے یا چھوٹے کاروبار کو بینکوں کے پاس سود میں وقفہ دیا جائے اور آسان شرائط پر انہیں قرضے دیے جائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘چوتھی چیز متاثرین اور اقتصادی طور پر کمزور ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو مالی امداد دینے جارہے ہیں، اس وقت پاکستان میں 50 لاکھ لوگوں کو امداد دی جارہی ہے اور ہم مزید 70 لاکھ لوگوں کو امداد دینے جارہے ہیں’۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘ان افراد کو 4 ماہ کے لیے 3 ہزار روپے ماہانہ دیے جائیں گے جس کی مجموعی رقم تقریباً 150 ارب روپے ہے اور اسی میں پناہ گاہ کے پروگرامز بھی ہیں جس کے لیے مزید فنڈ بڑھایا جائے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یوٹیلٹی اسٹورز کو 50 ارب روپے دے رہے ہیں جس سے کھانے پینے کی اشیا سستی ملیں گی’۔حکومتی پیکج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’82 لاکھ ٹن گندم اپنے کسانوں سے خریدنے جارہے ہیں جس کی لاگت 280 ارب روپے ہوگی جس سے کسانوں کے لیے آسانی اور دوسرے شعبوں میں طلب بڑھے گی’۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کمی کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت فوری طور 15 روپے گرانے کا فیصلہ کیا اور آنے والے 3 مہینوں میں اس میں مزید کمی کی جائے گئی مگر بڑھایا نہیں جائے گا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘گیس اور بجلی کے چھوٹے صارفین کو بل دینے میں مہلت دی جائے گی جس کے تحت 3 مہینے کی اقساط کی سہولت دی جائے گی’۔
عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ‘ہیلتھ ورکر کے یونیفارم اور دیگر آلات کے لیے 50 ارب روپے رکھے جارہے ہیں، کھانے کی چیزوں میں اضافی ٹیکس کو بالکل ختم کیا جارہا ہے یا زبردست کمی کی جارہی ہے’۔این ڈی ایم اے کورونا وائرس سے نمٹنے والا ادارہ ہے جس کے لیے 25 ارب روپے دے رہے ہیں اور مزید ضرورت پڑی تو اس میں اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم ایک سو ارب روپے کا اضافی فنڈ مقرر کر رہے ہیں، جس میں کاروباری برادری اور دوسرے مطالبات آئیں گے جس میں ان کی مدد کریں گے’۔عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ‘ہم ایک مانیٹری کے حوالے سے پیکج دیں گے جس میں شرح سود میں کمی کی گئی ہے اس کے علاوہ قرض دینے اور اس پر سود کی شرح کو واپس کرنے کے لیے 3 سے 6 مہینے کی مہلت دیں گے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close