حکومت سنجیدگی دکھائے، کرونا مزید پھیل گیا تو قابو کرنا مشکل ہوگا

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس کی تعداد کے بعد حکومت کو مہلک وباء سے نمٹنے کیلئے سنجیدہ اقدام اٹھانے چاہئیں۔ وائرس مزید پھیل گیا تو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اتفاق رائے پیداکرنے کیلئے وزیر اعظم کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی.
کراچی میں ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو مہلک وباء سے نمٹنے کیلئے ایسے اقدام اٹھانے چاہئیں جس سے وائرس کم ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے باعث حکومت کو آئسولیشن،قرنطینہ، وینٹی لیٹر، میڈیکل سٹاف کی تعداد کو بڑھانا چاہیے۔ حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے۔ ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کورونا سے متعلق اقدامات کریں۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کو کورونا سے نمٹنے کیلئے مکمل تیاررہناچاہیے اور وزیراعظم عمران خان اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کریں۔ وائرس مزید پھیل گیا تو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔
چیئر مین پیپلز پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ کوختم کرنا پڑے گا۔ ہم نے معاشی پیکیج کا مطالبہ کیا تھا، وزیراعظم عمران خان نے جواقدامات اٹھائے وہ کافی نہیں، ہم نے اپنے غریب عوام کا خیال رکھنا ہے۔ غریبوں کے بجلی،گیس بلوں کومعاف کرنا چاہیے۔ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کے دوران شرح سے متعلق بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے شرح سود کو کم کیا گیا تاہم شرح سود کو سنگل ڈیجیٹ تک لایا جائے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے وفاق قیادت کرے اور اقدامات اٹھائے، عوام حکومتی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے گھروں میں رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا پوری دنیامیں پھیلی ہوئی ہے، امیر ہو یا غریب وائرس فرق نہیں دیکھتا، وہ ممالک جن کا ہیلتھ کانظام ہم سے بہترین تھا وہ بھی اس سے متاثر ہوئے، ترقی یافتہ ممالک بھی کورونا وائرس کے بوجھ تلے دبےجارہے ہیں۔چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس مزید تیزی سے پھیلا تو بہت نقصان ہوگا، ہم چاہتے ہیں وفاق قیادت کرے اور ہنگامی اقدامات اٹھائے، وزیراعظم عمران خان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں،تیاری کریں تاکہ ہم کورونا وائرس کامقابلہ کرسکیں، حکومت نے تیزی سےاقدامات نہ اٹھائے تو بہت نقصان ہوسکتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پاکستان کی صورتحال کو کلاسیفائیڈ قراردیا ہے، کراچی میں94مریض لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں، ان مریضوں کو دیکھ کر ہمیں اقدامات اٹھانا ہوں گے، ہمیں اسکریننگ اورٹیسٹنگ کے وسائل کو اور قرنطینہ کیلئے مزید جگہوں کا انتخاب کرکے بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوام حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور گھروں میں رہیں، عوام کو احتیاطی تدابیراختیارکرنا ہوں گی ایسےہی وبا سے لڑسکتے ہیں، اس وقت ہمیں اپنے غریب عوام کاخیال رکھنا ہے،۔ اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے عوام کوریلیف دینےکیلئے بھی ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، اس کیلئے بجلی اور گیس کے بل معاف کرنا ہوں گے، لوڈشیڈنگ بالکل ختم کرنا ہوگی تاکہ لوگوں کو مسائل نہ ہوں،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں شرح سود صفر پر لانا ہوگی اور پٹرول مزید سستا کرنا ہوگا، ہمیں اپنےاسپتالوں اور ٹیسٹنگ کی استعداد کو بڑھاتے ہوئے طبی سہولتوں میں اضافہ کرنا ہوگا۔ حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کورونا سے متعلق اقدامات کریں۔
قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری کا اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ صورتحال کے پیش نظر قوم کو مسیحاؤں کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹوزرداری نے اپنی ٹوئٹ میں مزید کہا کہ اس وقت کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ بلاول بھٹونے ٹوئٹرپرایک لنگ بھی شیئرکیا جس میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یہاں اپلائی کریں کیونکہ مسیحاؤں کی قوم کوضرورت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close