پیٹرول پمپ پر ایل پی جی ٹینکر حادثے میں 200 گاڑیاں جل گئیں

لاہور کے علاقے شاہدرہ کے پیٹرل پمپ پر ایک ٹینکر الٹنے سے مائع قدرتی گیس (ایل پی جی) کے اخراج کے چند لمحوں بعد ہونے والے زوردار دھماکے سے تین جاں بحق اور ٹریفک وارڈن سمیت 10 زخمی ہوگئے۔
شدید جھلسنے سے جاں بحق ہونے والے 65 سالہ سید زاہد عباس ایک ٹریفک وارڈن کے والد تھے جو دھماکے کے وقت بینک سے اپنی پینشن نکلوانے جارہے تھے۔
پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق آئل ٹینکر شاہدرہ موڑ پر ایک پیٹرل پمپ کے قریب الٹا جس کے نتیجے میں ٹینکر سے بھاری مقدار میں گیس کا اخراج ہوا۔
بھاری مقدار میں گیس کا اخراج پیٹرول پمپ میں داخل ہوا جہاں سی این جی فروخت ہوتی تھی جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور چند لمحات بعد ہی عینی شاہدین کو زوردار دھماکے کی آواز سنائی دی۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ 200 گاڑیاں جل گئیں جس میں 4 بسیں، 6 کوسٹرز، 9 کاریں، 15 رکشے، 80 موٹر سائیکل رکشے، 3 ٹرک اور 70 بائیکس شامل تھیں۔
اس کے علاوہ نزدیکی عمارتوں اور گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور دھماکے کے باعث ایک مسجد کی دیواریں بھی منہدم ہوگئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اتنے شدید دھماکے کے بعد اس سے آگ لگنے کی وجہ سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی اور بچوں اور خواتین سمیت علاقہ مکین گھروں سے باہر نکل آئے۔
مقامی افراد کے مطابق بروقت اطلاع دیے جانے کے باوجود ریسکیو 1122 کا عملہ جائے حادثہ پر تاخیر سے پہنچا۔
بعدازاں ایک درجن فائرانجن، خصوصی گاڑیاں اور آگ بجھانے والا عملہ جائے وقوع پر پہنچا اور آگ بجھانے کی کوششیں شروع کردی۔
ایک ریسکیو عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے باعث نافذ کردہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے علاقے میں عوام کی تعداد زیادہ نہیں تھی اس لیے جانی نقصان کم ہوا ورنہ شاہدرہ موڑ پر اس حادثے کی وجہ سے بڑی تباہی مچ سکتی تھی جو عام طور پر شہر کے مصروف ترین چوک میں سے ایک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close