ہندوستان میں رائج صدیوں پرانی دقیانوسی رسومات

دنیا تو اکیسویں صدی میں داخل ہوچکی ہے مگر ہندوستان میں آج بھی صدیوں پرانی دقیانوسی رسومات پر عمل جاری ہے۔ آئیے ایسی ہی عجیب اور انوکھی ہندو رسومات کے بارے میں جانتے ہیں۔
جنوبی ہندوستان کے لوگ ٹھیمیٹی نامی میلے میں برہنہ پاﺅں جلتی لکڑیوں پر چلتے ہیں تا کہ ہندو دیوی کو خراج عقیدت پیش کیا جاسکے۔ اس رسم میں حصہ لینے والے افراد کو بعد میں اپنے جلے ہوئے پیروں کا علاج کرانا پڑتا ہے اور کئی بار تو شدید یا بدترین زخموں کی وجہ سے وہ معذوری کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔
تھوکم نامی میلے میں ہندو تیز دھار ہکس یا کھونٹوں پر اپنے جسموں کے بل لٹک جاتے ہیں اور پھر انہیں رسیوں کی مدد سے زمین سے اوپر اٹھا کر فضا میں لٹکا دیا جاتا ہے، جنوبی ہندوستان میں ہونے والے اس میلے پر کچھ اموات خے بعد ہندوستانی حکومت نے انسانی حقوق کے اداروں کے دباﺅ پر پابندی لگا دی تھی مگر اب بھی اس رسم کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاسکا ہے۔
ہندوستانی بُل فائٹنگ یا جلّی کٹو بغیر کسی رسی یا ہتھیار کے ہوتی ہے، جبکہ بیل کو مقدس سمجھنے کی وجہ سے مقابلے کے بعد مارا نہیں جاتا ، جنوبی ہندوستان میں کاشتکاری کے میلے کے موقع پر اس کا انعقاد ہوتا ہے اور یہ ہندوستان کا خطرناک ترین کھیل بھی مانا جاتا ہے جس میں نوجوانوں سمیت ہر عمر کے افراد پورے جوش و خروش سے حصہ لیتے تھے تاہم سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے بعد اس پر سپریم کورٹ میں پابندی کی درخواست دائر کی گئی جو تاحال زیر سماعت ہے۔
ہندوستان میں منائے جانے والے کئی مذہبی تہواروں میں لوگ اپنے بال منڈواتے ہیں، بعد میں عقیدت مندوں کے یہ بال دیگر ملکوں کو برآمد کر دئیے جاتے ہیں۔ اس وقت ہندوستان بالوں کی برآمد میں دنیا میں سرفہرست ملک بن گیا ہے۔ مختلف ہندوستانی مندروں سے ٹنوں کے حساب سے بال ہول سیلرز کو فروخت کیے جاتے ہیں، اس سے مندروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک کلو بالوں کی قیمت 250 ڈالر ہے جبکہ آج سے 15 سال پہلے ایک کلو بال 20 ڈالر میں فروخت ہوتے تھے۔
صدیوں سے ہندوﺅں میں شوہر کی موت کے بعد اس کی بیوی کو زندہ جلا دینے کی رسم جسے ‘ستی’ بھی کہا جاتا ہے اب بھی رائج ہے، اس رسم پر برطانوی سامراج نے 1859 میں پابندی لگا دی تھی مگر اب بھی ہندوستان کے مختلف حصوں میں اس پر عمل کیا جاتا ہے۔
ہر سال دسمبر کے مہینے میں بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک مندر میں سو سے زائد بچوں کو چھت سے نیچے پھینکا جاتا ہے، 200 فٹ بلندی سے نیچے پھینکے جانے والے بچوں کو پکڑنے کے لیے مردوں کا ایک گروپ کپڑوں کا جال لیے کھڑا ہوتا ہے، اس انوکھی رسم کی وجہ شادی شدہ جوڑوں کی مزید بچوں کی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ پورے جوش و خروش سے اس میں حصہ لیتے ہیں، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس رسم سے بچے کی صحت اچھی ہوتی ہے اور خاندان کی قسمت کھل جاتی ہے۔
کرناٹک کے کچھ مندروں میں جانے کا موقع ملے تو آپ کو روک کر نیچے لیٹنے اور فرش پر رول یا گھومنے کا حکم دیا جائے گا، ان گھومتے ہوئے جسموں کو ایسی غذا کے ڈھیر پر رول ہونا پڑتا ہے جو برہمن پھینک دیتے ہیں اور یہ برہمنوں سے نچلی ذاتوں پر فرض ہے کہ وہ یہ رسم ادا کریں کیونکہ اس سے ان کے خیال میں جلدی امراض کا علاج ہوتا ہے۔
ہندوازم میں کسی پر جادو کرنا روایات کا حصہ ہے، اس مقصد کے لیے جو ایک طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے وہ سفید مرغی کو کاٹنا ہوتا ہے جس کے بعد مرغی کے ٹکڑے اس جنتر منتر کرنے والے عامل کے گھر کے پاس پھینک دیے جاتے ہیں، جس شخص پر جھاڑ پھونک کی جاتی ہے اس سے مختلف سوالات کیے جاتے ہیں اور شیطانی اثر سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ شیطان یا بدروحیں سفید مرغیوں سے ڈرتی ہیں۔
بھارت میں لمبی اور تیز سوئیوں کے ذریعے زبان کو چھیدا جاتا ہے یہ سوئیاں عام طور پر لکڑی یا اسٹیل سے بنائی جاتی ہیں اور یہ اتنی بڑی ہوتی ہیں کہ زبان چھیدنے کے بعد منہ سے بھی باہر نکل جاتی ہے، ایسا انوکھا کام ہندوستان کے متعدد میلوں میں ہوتا ہے اور عام طور پر اس کی وجہ شادی کی خواہش ہوتی ہے۔
لڑکیوں کی نسل کشی کی سماجی برائی دنیا کے کئی ممالک میں ہے مگر اس میں سرفہرست ہندوستان ہی ہے جہاں لڑکوں کو ترجیح دی جاتی ہے اور لڑکیوں کو پیدائش سے قبل ماں کے پیٹ میں ختم کروا دیا جاتا ہے، کئی بار تو پیدائش کے بعد بھی ان ننھی پریوں کو ہلاک کردیا جاتا ہے، دلچسپ یا افسوسناک امر یہ ہے کہ اس روایت پر انیسویں صدی سے پابندی عائد ہے مگر اس کی روک تھام نہیں ہوسکی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close