ٹیکنالوجی کا شاہکار دنیا کے خطرناک ترین ڈیم کون سے؟

پانی زندگی کے وجود کیلئے بنیادی ضرورت ہے اور ڈیموں کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی ملک کی معیشت کی مضبوطی و استحکام کےلیے وافر توانائی کی طرح وافر پانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ پانی کی ضرورت کو پورا کرنے اور ذخیرہ کرنے کیلئے دنیا کے مختلف ممالک میں ڈیم تعمیر کئے جاتے ہیں۔ آئیے آپ کو مختلف ممالک میں قائم شاندار اور خطرناک ڈیمز کے بارے میں بتاتے ہیں۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں موصل ڈیم کی جو کہ عراق کے شہر موصل میں بنایا گیا ہے جس کو مشرق وسطیٰ کا سب سے خطرناک ڈیم قرار دیا گیا ہے، اس سے موصل شہر میں بسنے والے 17 لاکھ لوگوں کو بجلی ملتی ہے، یہ ڈیم گیارہ ہزار کیوبک کلومیٹر پانی کو ہولڈ کر سکتا ہے کسی بھی حادثے کی وجہ سے اس میں بہنے والا پانی منٹوں میں بغداد تک پہنچ سکتا ہے اور اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز تباہ و برباد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی خطرے کے پیش نظر اس ڈیم میں 100 کے قریب ملازمین ہر وقت اس کی دیکھ بھال پر مامور رہتے ہیں۔2014 میں دہشتگرد اس ڈیم کو تباہ کرنا چاہتے تھے لیکن بارود کی کمی کی وجہ سے وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایزا بیلا لیک ڈیم بھی لوگوں کےلیے بڑا خطرہ ہے کیوں کہ ماہرین کے مطابق اس کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں اور کسی بھی وقت زلزلہ آنے پر یہ ڈیم ٹوٹ سکتا ہے، انجینئرز کی ایک ٹیم اس ڈیم کے ڈیزائن کو تبدیل کرنے اور اس کی دیواریں اونچی کرنے میں مصروف ہے ، تعمیر کا یہ کام 2022 تک مکمل ہوگا اور تب تک اس ڈیم کے ٹوٹنے کا خطرہ کیلیفورنیا کے لوگوں پر منڈلاتا رہے گا۔
تھری جارجیز ڈیم کو دنیا کا سب سے طاقتور ہائیڈرو الیکٹرک پاور سٹیشن کہتے ہیں اور یہ آج تک انسانوں کے بنائے گئے دیوقامت سٹرکچرز میں گنا جاتا ہے، آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن چین کے بنائے گئے اس ڈیم میں اتنا پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ زمین کے گھومنے کی رفتار کو0.06 مائیکرو سیکنڈز تک کم کر سکتا ہے اور زمین کی بناوٹ کو درمیان سے تھوڑا زیادہ گول کرنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے، یہ ڈیم 40 بلین لیٹر پانی کے ساتھ سطح سمندر کو 175 میٹر اوپر اٹھانے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور صرف اس ایک ڈیم سے پورے چین کےلیے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اس کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر اس ڈیم میں کوئی حادثہ ہوا تو یہ بیک وقت 35 کروڑ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے۔
جارجیا کا انگوری ڈیم بھی دنیا کا بہت بڑا ہائیڈرو الیکٹرسٹی ڈیم ہے جو کہ آدھے ملک کو بجلی سپلائی کر رہا ہے، 1970 میں تعمیر کیا گیا 72 فٹ اونچا یہ ڈیم پہاڑی راستے پر بنایا گیا ہے جس میں کئی خطرناک جگہیں بھی ہیں اور کئی مقامات پر زمین پانچ سے دس سینٹی میٹر دھنس رہی ہے جس کی وجہ سے اس ڈیم میں کسی بھی وقت دراڑ آ سکتی ہے، یہ ڈیم ایسی زمینی پٹی پر تعمیر ہے جہاں زلزلہ آنے کے امکانات بھی بہت زیادہ ہیں۔
چین کا زیان وان ڈیم بھی دنیا کا سب سے اونچا ڈیم ہے اور یہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ندی کوم پر موجود ہے جو چائنا ، ڈنمارک ، کمبوڈیا اور ویت نام میں بہتی ہے، یہ ندی ایشیا کے چھ کروڑ لوگوں کو بجلی، پانی اور آمدو رفت کا راستہ دیتی ہے، ماہرین کے مطابق اس علاقے میں 8.0 شدت کا زلزلہ آ سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو یہ ڈیم لندن شہر کے برابر جگہ کو پانی میں ڈبو سکتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں تعمیر کردہ گرینی ڈکسن ڈیم رون ندی کے 400 ملین کیوبک پانی کو ہولڈ کرتا ہے کسی بھی حادثے کے صورت میں یہ ڈیم صرف 4 منٹوں میں 70 ہزار افراد کو صفہ ہستی سے مٹا سکتا ہے، یہ ڈیم اتنا خطرناک ہے کہ اس سے بچاؤ کے لیے ملک بھر کے 80 فیصد علاقے میں وارننگ سائرن لگائے گئے ہیں جس کے بجنے پر لوگوں کیلئے بچ نکلنے کیلئے صرف دو گھنٹے کا وقت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close