چیتوں کے بارے چند عجیب و غریب حقائق

دنیا میں چیتے کو تیز ترین جانور کی حیثیت سے جانا جاتاہےجو کہ بلی کی نسل Felidae سے تعلق رکھتا ہے۔ چیتا بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، ہندوستان، انڈونیشیا، میانمار، ملائیشیا، نیپال، شمالی کوریا، تھائی لینڈ، ویت نام اور روس کے مشرقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ زمانہ قدیم میں مشرق وسطیٰ اور مصر کے لوگ چیتے کو پالتے تھے، انہیں شکار کرنا اور گھوڑوں کی پیٹھ پر بیٹھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔اپنے مضبوط ، طاقتور اور شاندار جسم کی بدولت چیتے بہترین شکاری سمجھے جاتے ہیں۔ چیتے بہت اچھے تیراک بھی ہوتے ہیں اور چھپ کر شکار کرتے ہیں۔ ان کو 50 کلو تک وزن اٹھا کر 2 میٹر اونچی رکاوٹ کو پھاندتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
چیتے کا جسم چوڑا اور طاقتور ہوتا ہے۔ بالغ نر کا وزن تقریبا 200 سے 320 کلو گرام تک اور مادہ کا تقریباً 120 سے 180 کلو گرام تک ہوتا ہے۔جسم کی لمبائی 140 سے 280 سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ ان کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں بھوری یا سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں جبکہ سفید شیر کا رنگ سفید اور سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ ان میں دھاریوں کی تعداد تقریبا 100 کے لگ بھگ ہوتی ہے۔
مادہ چیتے کے ایک بار پیدا ہونے والے بچوں کے جھول یعنی چیتے کے اکٹھے پیدا ہونے والے بچوں میں سے آدھے سے زیادہ بچے ایک سے زیادہ باپ کی اولاد ہوتے ہیں۔ جنگل میں صرف 30 فیصد بچے ہی زندہ رہ پاتے ہیں جبکہ انسان کی دیکھ بھال میں بچنے والے بچوں کی تعداد 80 فیصد تک ہے۔ بہت سے مادہ چیتوں نے زندگی بھر ایک بچے کی پرورش کر کے اسے بڑا نہیں کیا ہوتا لیکن کچھ مادہ چیتے بہت اچھے طریقے سے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ جنوبی سرنگٹی میں ایک مادہ چیتے نے 10 فیصد بالغ چیتوں کی پرورش بھی کی ہے۔ چیتے شیر کی طرح نہیں دھاڑ سکتے۔وہ بلی کی طرح میاؤں کر سکتے ہیں، پرندوں کی طرح چہچہا سکتے ہیں، کتوں کی طرح بھونک سکتے ہیں اورسانپ کی طرح کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔ کچھ چیتوں کے رنگ سفید، سرمئی، سرخی مائل، نیلگوں اور کریمی بھی ہوتے تھے۔ چیتے ہر روز پانی نہیں پیتے۔ وہ تین یا چار دن بعد ایک دفعہ پانی پیتے ہیں۔ چیتے صرف 3 سیکنڈ میں 0 سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتے ہیں۔ جو کئی سپر کاروں سے زیادہ ہے، اسی لئے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوڑ لگاتا ہوا چیتا ’پچھلے پہیوں کی طاقت پر چلنے والی کار کی طرح ہے‘۔ عام طور پر دوسرے جانوروں کی مسابقت سے بچنے کے لیے چیتے دن کے وقت شکار کرتے ہیں۔ جب وہ کسی جانور کا شکار کرتے ہیں،اُن کےجسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ دوڑتے ہوئے چیتے کے پاؤں زمین پر کم وقت کے لیے لگتے ہیں جبکہ اس کا جسم ہوا میں زیادہ دیر کے لیے ہوتا ہے۔ دوڑتے ہوئے چیتا 21 فٹ کی چھلانگ بھی لگاتا ہے۔ سارہ نامی ایک مادہ چیتے کے پاس دنیا کے تیز ترین جانور کا ریکارڈ ہے۔ سارہ نے 100 میٹر کا فاصلہ 5.95 سیکنڈ میں طے کیا تھا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 61 میل فی گھنٹہ رہی۔تاہم تیز رفتاری کے باوجود چیتے کافی سست ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وقت کا 88 فیصد بیٹھ کر گزارتے ہیں۔ چڑیا گھر میں رہنے والے چیتوں میں زیادہ توانائی ہوتی ہے مگر وہ اکثر نروس اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہیں، جس کے باعث دنیا بھر کے چڑیا گھروں میں چیتوں کو کتے کے پِلوں کے ساتھ پالا جاتا ہے، جس سے چیتے زیادہ نروس نہیں ہوتے۔ اکثر چڑیا گھروں میں چیتوں کو لبھانے کے لیے کلوین کلاین کا اوبیشن فار مین (Obsession for Men) پرفیوم استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پرفیوم دوسری خوشبوؤں کے مقابلے میں چیتوں کو زیادہ لبھاتا ہے اور ذہنی دباؤ کو دور کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close