کرونا سے پہلے دنیا میں تباہی پھیلانے والی دس مہلک ترین وبائیں

عام تاثر تو یہی ہے کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی وبا نے دنیا بھر میں انسانی ہلاکتوں کی صورت میں تباہی مچا کر رکھ دی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ماضی میں پھیلنے والی وباوں کے مقابلے میں کرونا وائرس کچھ بھی نہیں کیونکہ تاریخ میں اس سے پہلے آنے والی وبائیں کہیں زیادہ ہلاکت انگیز ثابت ہوئیں جن سے کروڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ماضی میں پھیلنے والی دس ہولناک ترین وباؤں نے دنیا کے بڑے حصوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
نیند کی وبا سے دنیا بھر میں مجموعی طور پر 15 لاکھ ہلاکتیں ہوئیں۔1915 سے 1926 تک بھڑکنے والی اس وبا کا باعث ایک جرثومہ تھا جو دماغ کے اندر جا کر حملہ کرتا ہے۔ اس بیماری کو گردن توڑ بخار کی ایک شکل سمجھا جا سکتا ہے جس میں مریض پر شدید غنودگی طاری ہو جاتی ہے۔ مرض کی شدت میں مریض بت بن جاتا ہےنہ اور ہل جل بھی نہیں سکتا ہے۔
1957 سے 58 کے دوران چین سے ایک فلو پھیلا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس کا وائرس بطخوں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا۔ اس وبا سے 20 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے، جن میں صرف امریکہ میں 70 ہزار ہلاکتیں شامل ہیں۔
ویسے تو طاعون کی بیماری وقتاً فوفتاً سر اٹھاتی رہی ہے، لیکن 1772 میں ایران میں ایک ہیبت ناک وبا ایرانی طاعون پھوٹ پڑی۔ اس زمانے میں اس موذی مرض کا کوئی علاج نہیں تھا جس نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس سے مجموعی طور پر 20 لاک سے زائد ہلاکتیں سامنے آئیں۔
سنہ 1930 میں میکسیکو میں پھیلنے والی کوکولزتلی کی مہلک وبا نے ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کی جانیں لیں اور یہ اس زمانے کے حساب سے مرنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی کیونکہ اس وقت دنیا کی آبادی اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
سنہ 1576 میں سپین میں پھیلنے والی کوکولزتلی کی بیماری سے 25 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ جب ہسپانوی مہم جوؤں نے براعظم امریکہ پر دھاوا بولا تو اس سے انسانی تاریخ کے ایک ہولناک المیے نے جنم لیا۔ مقامی آبادی کے جسموں میں یورپی جراثیم کے خلاف کسی قسم کی مدافعت موجود نہیں تھی، اس لیے ان کی بستیوں کی بستیاں تاراج ہو گئیں۔ یہ سانحہ 1576 تا 1580 میکسیکو میں پیش آیا جس میں 20 25 لاکھ افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ اصل بیماری کیا تھی، لیکن مریضوں کو تیز بخار ہوتا تھا، اور بدن کے مختلف حصوں سے خون جاری ہو جاتا تھا۔
انتونین کی وبا سے دنیا بھرمیں 50 لاکھ سے ایک کروڑ تک ہلاکتیں ہوئیں ۔ یہ دہشت ناک مرض اس وقت پھیلا جب رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی۔ 165 عیسوی سے 180 عیسوی تک جاری رہنے والی اس وبا نے یورپ کے بڑے حصے کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ مشہور حکیم جالینوس اسی دور میں گزرا ہے اور اس نے مرض کی تفصیلات بیان کی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ مرض کون سا تھا، اور اس سلسلے میں خسرہ اور چیچک دونوں کا نام لیا جاتا ہے۔
541 تا 542 میں آنے والی جسٹینن طاعون نامی وبا طاعون کی پہلی بڑی مثال ہے۔ اس وبا نے دو سال کے اندر اندر بازنطینی سلطنت اور اس سے ملحقہ ساسانی سلطنتوں کو سیلاب کی طرح لپیٹ میں لے لیا۔ اس وبا کا اثر اس قدر شدید تھا کہ ماہرین کے مطابق اس نے تاریخ کا دھارا ہی بدل کر رکھ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وبا نے ان سلطنتوں کو اتنا کمزور کر دیا تھا کہ چند عشروں بعد عرب بڑی آسانی سے دونوں کو الٹنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس سے ڈھائی کروڑ افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ایڈز جدید دور کی ایک نئی بیماری ہے جس کا وائرس مغربی افریقہ میں چمپینزیوں سے انسان میں منتقل ہوا اور پھر وہاں سے بقیہ دنیا میں پھیل گیا۔ اس بیماری نے سب سے زیادہ افریقہ کو متاثر کیا ہے اور حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ہونے والے 60 فیصد سے زیادہ مریضوں کا تعلق زیرِ صحارا افریقہ سے ہے۔ اس سے اب تک فنیا میں تین کروڑ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
ہسپانوی فلو کی وبا 1918 تا 1920 اس وقت پھیلی جب دنیا ابھی پہلی عالمی جنگ کی تباہی کے ملبے تلے دبی ہوئی تھی۔ اس وقت دنیا کی آبادی پونے دو ارب کے قریب تھی، جب کہ ہسپانوی فلو نے تقریباً ہر چوتھے شخص کو متاثر کیا۔ اس وبا سے مجموعی طور پر 10 کروڑ ہلاکتیں ہوئیں۔ اس وقت جنگ کی صورتِ حال کی وجہ سے یورپ کے بیشتر حصوں میں اس فلو سے ہونے والی ہلاکتوں کو چھپایا گیا، جب کہ سپین چونکہ جنگ میں شامل نہیں تھا اور وہاں سے بڑی ہلاکتوں کی خبریں آنے کے بعد یہ تاثر ملا جیسے اس بیماری نے خاص طور پر سپین کو ہدف بنایا ہے۔عام طور پر فلو بچوں اور بوڑھوں کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے، لیکن ہسپانوی فلو نے جوانوں کو خاص طور پر ہلاک کیا۔
1347 سے 1351 تک سیاہ موت نامی طاعون ک وبا نے دنیا کو اس قدر متاثر کیا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر یہ وبا نہ آئی ہوتی تو آج دنیا کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ انسانی تاریخ کبھی اتنے بڑے سانحے سے دوچار نہیں ہوئی۔ اس وبا سے ہلاکتوں کا تخمینہ 20 کروڑ لگایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طاعون کا جرثومہ مشرقی ایشیا سے ہوتا ہوا تجارتی راستوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ اور پھر یورپ جا پہنچا جہاں وہ 30 فیصد سے 60 فیصد آبادی کو موت کے منہ میں لے گیا۔ تباہی اس قدر بھیانک تھی کہ پورے شہر میں مُردوں کو دفنانے والا کوئی نہیں بچا۔اس وبا کے اثرات کی وجہ سے تاریخ میں پہلی بار دنیا کی مجموعی آبادی کم ہو گئی اور دوبارہ آبادی کی اس سطح تک پہنچنے کے لیے دنیا کو دو سو سال لگ گئے۔
2013 تا 2016 مغربی افریقہ میں پھیلنے والے ایبولا وائرس سے 11300 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
تاہم 2019 کے اواخر اور 2020 کے شروع میں کرونا وائرس سے پھیلنے والی وبا اب تک چین امریکہ اٹلی سپین اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں 25 ہزار سے زائد لوگوں کی جان لے چکی ہے اور ابھی اس وبا کا آغاز ہوا ہے۔ دیکھئے اس کا انجام کتنے لوگوں کی ہلاکت پر ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close