کماؤ بیوی کے رن مرید شوہر کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟

کہتے ہیں میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کےلیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ، خوشگوار ازداجی زندگی گزارنے کےلیے جہاں محبت ایک اہم عنصر ہے وہیں اگر ذمہ داریوں کی بات کی جائے تو شوہر کی اہم ترین ذمہ داری گھر کے اخراجات پورے کرنا ہے جس کے بعد گھر کے اہم فیصلے کرنے کا حق بھی اسی کو دیا جاتا ہے۔ لیکن دور حاضر میں ہمارے معاشرے میں ایسے شوہروں کی جگہ اب کماؤ بیویوں نے بھی لینا شروع کر دی ہے جو نوکری پیشہ ہیں اور گھر کے اخراجات پورے کرنے کے ساتھ خانہ داری امور کو بھی انجام دے رہی ہیں۔
کماؤ بیویوں کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ایک نئی اصطلاح بھی متعارف ہو گئی ہے جوکہ خاص طور پر ایسے شوہروں کے لیے ہے جو گھریلو کاموں میں یا تو بیوی کا ہاتھ بٹاتے ہیں یا پھر گھریلو کاموں کی ذمہ داری کو بھی بخوبی انجام دینے میں عافیت سمجھتے ہیں۔
جی ہاں ایسے شوہر کے لیے اردو میں رن مرید اور پنجابی میں ’بُڈھی تھلے لگیا’ جیسی اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں۔
لیکن مرد کو جب باہر سے یہ جملے سننے کو ملتے ہیں تو وہ گھریلو کاموں سے کوسوں دور ہو جاتا ہے اور بیوی کا ہاتھ بٹانا چھوڑ دیتا ہے۔ لیکن اگر بیوی کماؤ ہو تو شادی زیادہ دیر نہیں چلتی ہے کیوں کہ ایسی بیوی جو گھر کے تمام اخراجات کو اپنی کمائی سے پورا کرتی ہو، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر روز مرہ کاموں میں اس کا ہاتھ بٹائے کیوں کہ ملازمت کے بعد تھکی ہاری گھر آنے والی خاتون ہمیشہ ایک ایسا جیون ساتھی چاہتی ہے جوکہ اس کا احساس کرے اور گھریلو کاموں میں اس کی مدد بھی کر دیا کرے، نہ کہ صرف حکم چلائے۔
بیوی کے ملازمت پیشہ ہونے پر قریبی رشتہ داروں، والدین کی جانب سے بھی شوہر کو اکثر طعنے سننے پڑتے ہیں کہ بیوی کی کمائی کھا رہا ہے، تو اس پر حکم کیسے چلائے گا یا پھر بیوی کی ہر بات تو ماننا ہوگی کیوں کہ اس کی کمائی جو کھاتا ہے۔ تاہم ماہرین نفسیات کے مطابق کامیاب ازدواجی زندگی میں میاں بیوی دونوں کا ہی کردار اہم ہوتا ہے، ایسی بیویاں جوکہ صرف گھریلوں کاموں تک ہی محدود ہوتی ہیں وہ بھی کسی طور پر کمائی کرنے والے شوہر سے کم نہیں ہوتی ہیں کیوں کہ وہ اپنی جگہ پر تمام ذمہ داریاں ادا کر رہی ہوتی ہیں۔ لہذا دونوں کو اپنی اپنی جگہ پر ایک دوسرے کا احساس کرنا چاہئے اور شوہروں کو بھی چاہئے کہ اگر ان کی بیویاں ملازمت پیشہ ہیں تو ان کا خیال رکھیں اور گھریلو کاموں میں ان کا ہاتھ بٹانے میں کوئی آر نہیں ہے، ماہرین نفسیات کے مطابق مردوں کو رن مرید جیسی فضول معاشرتی اصطلاحوں پر توجہ کلدیے بغیر صرف اپنی ازدواجی زندگی کی کامیابی پر توجہ مرکوز کرنا چاہئے تاکہ وہ بہترین خاندان کے ساتھ بہترین معاشرے کی بنیاد رکھنے میں مدد گار ثابت ہو سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close