لاک ڈاؤن کے بعد گھریلو جھگڑوں اور طلاقوں میں اضافہ

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر دنیا کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے ہیں اور طلاقوں کی شرح میں اضافہ ہوگیا ہے.
چونکہ لاک ڈاون کی وجہ سے فیملی کے تمام افراد گھروں تک محدود ہیں لہذا حالیہ ہفتوں میں چین، برطانیہ، فرانس، اٹلی، سپین اور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں گھریلو تشدد کے واقعات اور اس کے نتیجے میں علیحدگی اور طلاق کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان اور ہمسایہ ملک بھارت میں بھی صورتحال خاصی پریشان کن ہے جہاں خواتین پر جسمانی تشدد کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ساتھ ہی طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
کرونا وائرس جیسی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے اگرچہ دنیا کے درجنوں ممالک نے مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن نافذ کر رکھا ہے اور اس عمل سے عوام کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے امکانات واضح طور پر کم ہوئے ہیں، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں دیگر خانگی مسائل سامنے آنے لگے ہیں جن میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان لڑائی جھگڑے اور تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی شامل ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والی رپورٹس کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے دوران مردوں کی جانب سے خواتین پر تشدد کے واقعات میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا۔ پورے کے پورے خاندانوں کے گھروں میں رہنے کی وجہ سے آپسی عدم برداشت بڑھ رہی ہے جس سے طلاق کی درخواستیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں بھی لاک ڈاؤن کے بعد گھروں میں جھگڑے اور میاں بیوی میں علیحدگی کی شرح میں اضافہ نظر آرہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد یورپ میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ رپورٹ میں برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر یورپی ممالک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی گھریلو تشدد کی رپورٹس میں 30 فیصد تک اضافے کا دعویٰ کیا گیا۔ فرانس کے وزیر داخلہ کرسٹوف کاسٹنر کا کہنا ہے کہ 17 مارچ کو ملک میں لاک ڈاون میں داخل ہونے کے بعد سے ملک بھر میں گھریلو تشدد کی اطلاعات میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ کے مختلف عہدیداروں، سماجی تنظیموں اور صحت کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف برطانیہ میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران 30 فیصد گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا۔
برطانوی اخبار دی گارجین نے بھی اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین سے لے کر فرانس اوراٹلی سے لے کر اسپین جب کہ جرمنی سے لے کر برازیل جیسے ممالک میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا۔ چین میں گھریلو تشدد کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں اور رضاکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین مین گھریلو تشدد میں حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کورونا سے چین کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ووہان میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کی رپورٹس میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا جب کہ وہاں ہونے والے گھریلو تشدد کے 90 فیصد واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طرح کورونا وائرس سے ہی منسلک تھا۔
رپورٹ کے مطابق برازیل میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے بعد گھریلو تشدد کے واقعات میں 40 سے 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں جب کہ اس سے بچے بھی محفوظ نہیں۔برازیل میں سب سے زیادہ تشدد کے کیس سب سے بڑے شہر ریوڈی جنیرو سے سامنے آئے۔اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات والے ملک اٹلی میں بھی حیران کن طور پر گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا اور کئی ایسے علاقوں سے تشدد کی زیادہ رپورٹس سامنے آئیں جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے۔
چین، یورپ اور امریکا کی طرح جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی ایسے ہی حالات نظر آتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں بھی کئی ہفتوں کا لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد گھروں میں لڑائیاں میاں بیوی میں ناچاقی اور گھریلو تشدد میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول سے ہٹ کر میاں بیوی اور دیگر اہل خانہ جا ٹ ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا رشتوں میں قربت کی بجائے دوریاں لانے کا سبب بن رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا تا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان اور بھارت میں کرونا وائرس کے نتیجے میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے طلاق کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close