سیلز گرل ہونا ہمارے معاشرے میں ایک مشکل جاب کیوں؟

پوش ایریاز میں موجود بڑی دکانوں اور شاپنگ مالز پر اکثر ہمیں نوجوان لڑکیاں کام کرتی نظر آتی ہیں، ان میں کچھ شاپنگ مالز میں موجود مختلف کمپنیوں کی چیزوں کی سیل بڑھانے کے لیے کام کرتی ہیں، ان میں سے بیشتر لڑکیوں کے گھروں میں کمانے والے نہیں ہوتے اور وہ مجبوری کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر ان بڑے اسٹورز پر کام کرنے کےلیے آتی ہیں۔
عام طور پر سیلز گرل کے شاپنگ مالز میں کام کرنے کا وقت صبح 10 بجے سے رات 9 بجے تک ہوتا ہے تاہم جب شاپنگ مالز میں رش ہو تو انہیں دیر تک کے لیے روک لیا جاتا ہے، درحقیقت بات وہی ہے ’نوکری کی تے نخرا کی‘۔
اس کے علاوہ شاپنگ مالز میں آنے والے لڑکے بھی یہاں کام کرنیوالی لڑکیوں یا سیلز گرلز کو دوستیوں کی پیشکش کرتے نظر آتے ہیں، بعض لڑکے آتے جاتے آوازیں کستے اور موبائل نمبرز مانگتے ہیں، سیلز گرلز کا کہنا ہے کہ ان کو ملازمت پر رکھتے وقت پہلی شرط یہ رکھی جاتی ہے کہ وہ بن سنور کر رہیں گی تاکہ گاہکوں کو متوجہ کر سکیں لیکن اس دوران ان کو منچلوں کی جانب سے انتہائی غیر مناسب رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی شکایت لگانے پر ان کو مالکان کی جانب سے نوکری سے نکالنے کی دھمکی بھی سننا پڑتی ہے۔
دوسری طرف سیلز گرل کی نوخری شادی شدہ خواتین کےلیے اور بھی مشکل ہے کیوں کہ اس ملازمت کےلیے خوبصورتی پہلی شرط ہے، حالات سے تنگ شادی شدہ خواتین کو سیلز گرلز کی ملازمت ہر گز نہیں ملتی ہے، لڑکیوں کی اکثریت اس ملازمت کو حاصل کرنے کےلیے جھوٹ بولتی ہے کہ وہ غیر شادی شدہ ہیں، شادی شدہ لڑکی کی بجائے غیر شادی شدہ لڑکیاں دس دس گھنٹے بآسانی کھڑی ہو سکتی ہیں اور گاہکوں کو زیادہ پرکشش انداز میں ڈیل کرتی ہیں۔
اس حوالے سے لیبر قوانین سیلز گرلز کا منہ چڑھاتے نظر آتے ہیں، سیلز گرلز اور دیگر خواتین ملازمین کے حقوق کی پاسداری کےلیے کوئی قوانین موجود نہیں ہیں، لیبر حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کمپنی ملازمین کو دوپہر کا کھانا نہیں دیتی یا ایک گھنٹے کی بریک نہیں دیتی تو اس سلسلے میں ہم کچھ کرنے سے قاصر ہیں یہاں تک کے تنخواہ وقت پر نہ ملے تو اس پر بھی لیبر ڈیپارٹمنٹ کچھ نہیں کر سکتا البتہ اگر کوئی ملازم آٹھ گھنٹے سے زائد کام لیے جانے کی شکایت لیبر کورٹ میں فائل کرتا ہے تو اس کو مطلوبہ رقم دلوانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ سیلز گرلز بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، کیا ان کے لیے کہیں کوئی لیبر قوانین نہیں بنائے جا سکتے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close