کرونا وائرس کے حوالے سے لکھا گیا پہلا مختصر افسانہ

ایک مہینہ پہلے، ہاں بالکل ایک مہینہ پہلے وہ کتنی خوش تھی، دن تھے کہ گزر ہی نہیں رہے تھے۔ آفتاب جو اس کا بچپن کا منگیتر تھا، اس نے دبئی سے آنا تھا اور 23 تاریخ کو ان کی شادی طے تھی۔
آخر 15 تاریخ بھی آگئی، اسی دن آفتاب کا جہاز لاہور اترنا تھا۔ لالا اور ان کے سارے دوست ایک گاڑی پر اسے لینے گئے تھے اور جب وہ گاؤں واپس آئے تو رضیہ نے اسے کھڑکی سے دیکھا تھا۔ 2 سال میں وہ کتنا بدل گیا تھا، مونچھیں لمبی لمبی اور پہلے سے کچھ موٹا بھی ہوگیا تھا۔ ’شادی ہوجائے پھر تو کہوں گی روز ورزش کیا کرے‘، رضیہ یہ سوچ کر مسکرا دی۔
شادی کی تاریخ 23 طے تھی کہ ملک میں وبا پھوٹ پڑی، حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کردیا اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے۔
’اب کیا ہوگا؟‘ کیا ہماری شادی کبھی نہیں ہوگی اور ہم ایسے ہی اپنے اپنے گھروں میں بند رہیں گے۔‘ رضیہ بہت پریشان تھی، بڑے چچا ایک دن گھر آئے اور اُس کے ابّا سے کہا کہ ’شادی 23 کو ہی ہوگی، لوگ نہیں بلائیں گے بس خاندان کے لوگ ہی ہوں گے لیکن شادی ضرور ہوگی۔‘
ڈھولکی جو چند روز ہوئے رک گئی تھی پھر بجنے لگی اور 23 تاریخ کو وہ بیاہ کر آفتاب کی ڈولی میں آن بیٹھی۔ رات گئے جب وہ شادی کے انتظامات سے فارغ ہو کر کمرے میں آیا تو بے تحاشا کھانس رہا تھا۔ حتٰی کہ وہ کھانستے کھانستے فرش پر گرگیا۔ رضیہ گھبرا گئی۔ آفتاب سے پوچھنے لگی ۔۔ ’پانی دوں آپ کو؟‘ لیکن وہ تیز تیز سانس لیتے ہوئے تڑپ نے لگا۔ رضیہ باہر کو دوڑی۔
’بڑے چچا وہ، وہ آفتاب کی طبعیت بگڑ گئی ہے،‘ اس نے چلّا کر کہا۔ سب دوڑ کے کمرے میں آئے تو وہ فرش پر بے ہوش پڑا تھا۔ ’ایمبولینس بلاؤ،‘ بڑے چچا چیخے۔ ایمبولینس آگئی۔
لاہور پہنچنے پر آفتاب کو آئی سی یو میں شفٹ کیا گیا۔ اس کے بلڈ ٹیسٹ وغیرہ کیے گئے۔ تاہم اس کی سانسیں بحال نہیں ہو رہی تھیں۔ اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن سب بے سود رہا۔ سہاگ رات کو ہی رضیہ بیوہ ہو چکی تھی۔ بلڈ ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ آفتاب کرونا وائرس کا شکار ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close