بچے کرونا وائرس سےکم متاثر کیوں ہوتے ہیں؟

بچوں کے کرونا سے متاثر ہونے کے امکانات بڑوں کے مقابلے میں قدرے کم لیکن بچے یہ مہلک وائرس آگے پھیلانے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ دنیا بھر میں پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کی علامات کی شدت بچوں میں کم ہونے کی وجہ سے ان میں کرونا کی تشخیص کرنا بالغ افراد کے مقابلے میں پیچیدہ عمل ہے۔ چنانچہ بچوں میں کرونا کی فوری تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے بچے اس وائرس کے پھیلاؤ میں سہولت کار ثابت ہوتے ہیں اور بیماری کی تشخیص ہونے تک متعدد افراد میں کرونا پھیلانے کا سبب بن چکے ہوتے ہیں۔
چین کےمشرقی صوبے زینجیانگ میں بچوں کے 36 کرونا کیسز پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 10 کیسز میں کسی قسم کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں، جبکہ 7 میں تنفس کی علامات معتدل تھی۔ ووہان میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والے 171 بچوں پر ہونے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ 15 فیصد کیسز میں کرونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ 12 فیصد میں نمونیا میڈیکل اسکین میں نظر آیا مگر انفیکشن کی علامات نہیں تھیں۔
زنجیانگ میں ہونے والی نئی تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ بچوں میں اتنی بڑی تعداد میں کرونا کی علامات ظاہر نہ ہونے سے عندیہ ملتا ہے کہ ان میں مرض کی تشخیص آسان نہیں، جو کہ خطرناک صورتحال کا باعث بھی بن سکتا ہے کیونکہ وہ وائرس آگے پھیلا سکتے ہیں۔ اس تحقیق سے وائرس کے پھیلاؤ میں بچوں کے ممکنہ کردار کا اشارہ ملتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ بچوں میں وائرس کا شبہ تو ہوتا ہے مگر اکثر وہ زیادہ بیمار نہیں ہوتے، جس سے یہ امکان قوی ہوتا ہے کہ وہ خاموشی سے وائرس کے پھیلائو میں سہولت کار بن جاتے ہیں۔
تحقیق کے دوران ایک سے 16 سال کے بچوں کا جائزہ لیا گیا تھا جو کہ جنوری کے وسط سے فروری کے آخر تک بیمار ہوئے تھے۔ محققین نے دریافت کیا کہ نصف کے قریب کیسز کی شدت معمولی جبکہ باقی کی معتدل تھی، یہ سب ہسپتال میں رہنے کے بعد صحت یاب ہوگئے۔ بالغ مریضوں کے برعکس بچوں میں بخار، کھانسی اور نمونیا جیسی علامات کی شدت بہت کم تھی۔ محققین کے مطابق یہ نیا وائرس بچوں کی بالائی سانس کی نالی پر زیادہ اثر نہیں کرتا اور یہ متعدی وائرس بچوں میں چھپا رہتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بائیولوجی کے اصولوں کے مطابق بالغ افراد کے مقابلے میں بچوں میں نوول کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوسکتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے خلیات اس وائرس کے لیے زیادہ اچھے میزبان نہیں ہوتے اور کرونا وائرس کے لیے اپنی نقل بنانے اور دوسرے افراد میں منتقل ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔محققین نے مزید بتایا کہ بچے بھی اس وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں مگر ان میں علامات بالغ افراد کے مقابلے میں زیادہ شدید نہ ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں طبی نگہداشت کی کم ضرورت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ رویہ وائرس والے دیگر امراض میں بھی نظر آتا ہے کیونکہ ارتقائی طور پر ہم اس طرح کے حالات سے متاثر ہونے کے لیے ڈیزائن ہوئے ہیں اور بڑے ہونے پر مدافعتی نظام زیادہ پھیلتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close