پتھر سے بھی سخت پنیر

دنیا کا سب سے سخت پنیر نیپال میں تیار کیا جاتا ہے۔ یہ اتنا سخت ہوتا ہے کہ جیسے پتھر، یہ پنیر ہمالیائی یاک کے دودھ سے بنایا جاتا ہے جو سرد علاقے کے لوگوں کےلیے غذا کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اس پنیر کو درکھا اور چرپی کہا جاتا ہے۔ یہ پنیر ایک جانب نرم بنایا جاتا ہے تو دوسری جگہ چٹان کی طرح سخت بھی ہوتا ہے۔ سخت پنیر کو چیونگم کی طرح دو گھنٹے تک چبایا جاسکتا ہے۔
نرم پنیر کو چاول کے ساتھ بطور ڈش استعمال کیا جاتا، سموسوں میں ڈالا جاتا ہے اور سوپ کی صورت میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن سخت پنیر دنیا بھر میں مشہور ہے اور بڑے بڑے پیٹو اس پر دانت گاڑھنے میں ناکام رہ جاتے ہیں گویا کہ وہ لوہے کے چنے ثابت ہوتے ہیں۔

نرم پنیر کےلیے اسے 75 درجے فارن ہائیٹ پر گرم کیا جاتا ہے جس کے بعد مکھن والا پانی الگ کرکے اسے گرم کیا جاتا ہے تاکہ پانی کم ہوجائے۔ اس کے بعد باریک کپڑے میں لپیٹ کر لٹکادیا جاتا ہے جہاں قطرہ قطرہ پانی ٹپکتا رہتا ہے اور پنیر سخت ہوتا جاتا ہے۔ اسے مزید سخت بنانے کےلیے پٹ سن کی تھیلی میں رکھ کر مزید بھینچا جاتا ہے۔ باقی پانی نکلنے پر پنیر مزید سخت ہوکر پتھریلا ہوجاتا ہے۔ اب اسے چھری سے کاٹ کر اس کے ٹکڑے لٹکادیئے جاتے ہیں اور وہ مزید سخت ہوجاتا ہے۔
اپنی آخری شکل میں پنیر کو سختی کی وجہ سے کھانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ یہ پتھر کی طرح سخت ہوتا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اسے منہ میں رکھ کر چباتے رہتے ہیں اور لعاب ملنے سے یہ نرم پڑتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چیونگ گم کی طرح ہوجاتا ہے اور لوگ اسے کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن اس عمل میں بھی کئی گھنٹے لگتے ہیں۔
پروٹین سے بھرپور یہ پروٹین نیپال کے لوگوں کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں کیوں کہ سخت سردی سے بھرپور پہاڑی علاقے میں زندہ رہنے کےلیے پروٹین مددگار ہوتا ہے۔ نیپال کی دکانوں میں یہ پنیر بہت کم قیمت پر خریدا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close