کرونا سے بچے بھی متاثر، امریکہ میں 2 نوزائیدہ بچے چل بسے

کورونا وائرس سے اگرچہ دنیا میں سب سے کم عمر بچہ گزشتہ ماہ 15 مارچ میں برطانیہ میں متاثر ہوا تھا، تاہم اب اس وبا سے پہلی بار امریکا میں 2 نوزائیدہ بچوں کی موت نے سب کو افسردہ کردیا۔
عام طور پر تاحال اس وبا سے بچوں کی اموات نہیں ہوئیں اور اب تک دنیا میں ہونے والی 43 ہزار سے زائد اموات میں سے چند اموات ہی 15 سال سے کم عمر افراد کی ہوئی تھیں۔تاہم رواں ہفتے کورونا وائرس سے تیزی سے متاثر ہونے والے ملک امریکا میں 2 نوزائدہ بچوں کی موت نے سب کو افسردہ کردیا۔امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے مطابق کورونا وائرس سے امریکا میں پہلے نوزائدہ بچے کی موت ریاست الینوائے میں ہوئی، جہاں کچھ دن قبل ہی شکاگو کے ایک ہسپتال میں بچے میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔
رہورٹ میں بتایا گیا کہ ریاست الینوائے کی حکومت نے تصدیق کی کہ کورونا میں مبتلا ہونے والے بچے کی یکم اپریل کو ہسپتال میں موت ہوگئی۔اگرچہ امریکا کی دیگر ریاستوں کی طرح الینوائے میں بھی کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے، تاہم خوش قسمتی سے اس مرض سے تاحال کم عمر یا نوزائدہ بچے کم ہی متاثر ہوئے ہیں۔ریاست الینوائے میں 3 اپریل کی سہ پہر تک مریضوں کی تعداد 7 ہزار کے قریب تھی اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 146 تک جا پہنچی تھی، جب کہ وبا سے فوت ہوجانے والا بچہ پہلا نوزائدہ اور کم عمر بچہ تھا۔ریاست الینوائے کی طرح ریاست کنیکٹی کٹ میں بھی نوزائدہ بچے کی موت ہونے سے سب لوگ افسردہ ہوگئے۔این بی سی کنیکٹی کٹ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 7 ہفتوں کی نوزائدہ بچی گھر پر ہی تھیں مگر ان کی طبعیت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جاں بر نہ ہوسکیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کنیکٹی کٹ کے شہر ہارٹ فورٹ میں نوزائدہ بچی چل بسیں، جس کے بعد میڈیکل اسٹاف اور حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ریاست کے گورنر نے بھی اپنی ٹوئٹ کے ذریعے تصدیق کی گئی کہ ہسپتال میں کورونا وائرس سے متاثرہ بچی چل بسیں۔
ریاست کے گورنر نے واضح طور پر لکھا کہ فوت ہوجانے والی بچی کورونا سے بھی متاثر تھیں، تاہم انہیں صحت کے دیگر مسائل بھی لاحق تھے۔اسی طرح ہارٹ فورٹ کے مقامی حکام نے بھی واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ فوت ہوجانے والی کورونا سے ہی چل بسیں۔ریاست کنیکٹی کٹ میں 2 اپریل کی سہ پہر تک کورونا کے ساڑھے تین ہزار مریض تھے جب کہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد 86 تک جا پہنچی تھی۔امریکا میں 2 نوزائدہ بچوں کی کورونا میں موت ہونے کے بعد حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکام اس بات سے پریشان ہیں کہ اگر مذکورہ وبا سے بڑے پیمانے پر بچے متاثر ہوئے تو حالات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے گا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 15 مارچ میں پہلی بار کسی نوزائدہ بچے میں کورونا کی تشخیص ہوئی تھی، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ بچے کو ماں کے پیٹ میں ہی کورونا ہوا یا وہ پیدائش کے بعد اس سے متاثر ہوئے۔مذکورہ بچے میں پیدائش کے کچھ ہی گھنٹے بعد کورونا کی تشخیص ہوئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close