کرونا لاک ڈاؤن کے بعد گھریلو جھگڑے کیسے روکے جائیں؟

کرونا وائرس روکنے کے لیے لاک ڈاون کے بعد مختلف ممالک سے گھریلو جھگڑوں اور علیحدگی اور طلاق کی خبریں آ رہی ہیں جسکی بنیادی وجہ انکا ذہنی اور جذباتی تناؤ کا شکار ہونا ہے۔
چین میں تقریباً دو ماہ تک جاری رہنے والے سخت لاک ڈاؤن کے بعد جب معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوئی تو کچھ شہروں کے شادی و طلاق دفاتر میں علحیدگی کے لیے درخواستین دائر کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا جس کی بنیادی وجہ مسلسل ایک ساتھ رہنے کے باعث ابھر کر سامنے آنے والے فطری اور لاشعوری مسائل ہیں۔ اگرچہ چین سے آنے والی ایسی خبروں کو زیادہ تر ممالک میں ایک لطیفے کے طور پر لیا جا رہا ہے لیکن اپنے ارد گرد نگاہ دوڑانے سے آپ یہ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ دفاتر، تعلیمی اداروں اور تجارتی مقاصد کے لیے باہر نکلنے والے افراد مسلسل گھر میں رہنے سے کس قسم کا دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
پاکستان میں حالانکہ لاک ڈاون اتنا سخت نہیں ہے لیکن پھر بھی یہاں پر بھی گھروں میں بند لوگ ذہنی و جذباتی تناؤ کی وجہ سے چھوٹی سے چھوٹی بات پر سخت رد عمل دے رہے ہیں۔ پھر گھر کے سربراہان کو یہ مسئلہ بھی درپیش ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران گھر کے معاملات کیسے چلیں اور خرچہ کہاں سے آئے۔ اسکے علاوہ گھروں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی جھگڑے ہو رہے ہیں مثلا اس بات پر کہ گھر میں گندگی کیوں پھیلی ہوئی ہے، شور کیوں مچایا ہوا ہے، کھانا تو ڈھنگ سے بنا لیا کرو، ہر وقت فون میں کیوں لگے رہتے/لگی رہتی ہو اور جب دیکھو، بستر پر پڑی/پڑے رہتے ہو وغیرہ۔
عام حالات میں جس بات پر ہم سوچتے بھی نہیں تھے وہ اب غیر فطری طور پر بڑی اور ‘زہریلی’ لگ رہی ہیں، مسلسل ساتھ رہنے، نظر آنے اور خاموش کشیدگی کے باعث نوبت طلاق تک نہ بھی پہنچے، تب بھی لفظی جنگ، بحث اور بات چیت بند ہونے تک معاملات کا پہنچنا عام بات ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے گھر، تعلق اور بچوں کے مستقبل کو پرسکون اور خوشگوار رکھنا چاہتے ہیں تو چند درج ذیل سادہ سی تدابیر بہت فائدہ مند رہیں گی۔
ایک مصروفیت سے بھرپور زندگی کے بعد لاک ڈاؤن کی زندگی میں ایڈجسٹ ہونے کے لیے اپنی گھریلو سرگرمیوں کا اسٹرکچر بنانا مفید رہے گا جیسے، کسی وقت کچن کا کام کرنا ہے؟ کس وقت پروفیشنل کام کرنا ہے؟کتنا وقت اپنے شوہر/ بیوی یا اہل خانہ سے بات چیت میں گزارنا ہے؟ گھر کے دیگر افراد جیسے ساس، سسر، نند، دیور وغیرہ سے کب اور کیسے بات کرنا مناسب رہے گا؟ کب بات کرنا مسئلے کا سبب بنے گی؟ کس وقت بات کرنا خوشگوار ہے اور کس وقت تناؤ کا سبب؟ کس وقت گھر کی صفائی کرنی ہے؟
موبائل یا انٹرنیٹ کے ذریعے کس وقت کس دوست، رشتے دار، بہن و بھائی وغیرہ سے بات کرنی ہے؟ دن میں کتنی دفعہ سونا ہے؟ کن اوقات میں سونا ہے؟ عبادت اور روحانی سرگرمیاں کب کرنی ہیں۔ مفید سوشک میڈیا پر کرنے والی مفید سرگرمیاں کیا ہیں اور یہ کہ انہیں کب کرنا چاہیے؟
یہ پلاننگ کرنے سے آپ کے ذہن کا نیٹ ورک مصروف رہے گا اور شریک حیات کی جانب سے ملنے والی منفی توانائی اور تناؤ کافی حد تک قابو میں رہے گا۔ گھر کے بیشتر مسائل اسی وجہ سے ہوتے ہیں کہ ہم اپنی ذاتی غلطیوں کو دوسروں پر تھونپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلا آپ کچن صاف نہیں کر پارہیں تو آپ اس کا الزام بچوں کے شور شرابے پر رکھ دیں گی، آپ باہر سے سودا نہیں لا پا رہے تو آپ اس کو چھپانے کے لیے اپنی بیوی پر چڑھ دوڑیں گے۔ ذاتی مسئلے کو باہمی مسئلہ بنانے کا نتیجہ پورے گھر کو بھگتنا پڑتا ہے، ذاتی مسئلے کو کسی اور فرد پر تھوپ کر تیار رہیں کہ اس کا ردعمل بھی آئے گا۔ ہر فرد کو تنہا وقت اور جگہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی ذہنی اور جذباتی توانائی کو بحال کر سکے۔ آپ خود بھی ذاتی گنجائش کو لیں، اپنے شریک حیات کو اس سے آگاہ کریں، پھر یہی گنجائش اس کے لیے بھی پیدا کریں، تنہا سوچ بچار، ذکر و اذکار یا بس ذہن کو خالی کرنے کی کوشش سے ہم ایک محدود سی جگہ پر مسلسل رہنے کی ہمت حاصل کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close