کورونا وائرس : عالمی انسداد پولیو مہم بھی معطل

کورونا وائرس کے باعث عالمی پولیو مہم کو بھی معطل کردیا گیا ہے، ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اس کے شراکت داروں نے فیصلہ کیا کہ قومی ویکسی نیشن مہم اور گھر گھر نگرانی جیسی تمام دیگر سرگرمیوں کو اگلے 6 ماہ تک معطل کیا جانا چاہیے تاکہ کمیونٹیوں اور فرنٹ لائن ورکرز کو غیر ضروری خطرہ سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ مذکورہ اعلان گزشتہ ہفتے پولیو اوورائٹ بورڈ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے۔
خیال رہے کہ پولیو اوورائٹ بورڈ ایک نگراں ادارہ ہے جو ڈبلیو ایچ او اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے تشکیل دیا گیا۔
ماہرین نے بتایا کہ عالمی سطح پر وائرس لوگوں کو متاثر کررہا ہے جس کے باعث پولیو مہم روکنا ضروری سمجھا گیا، اس اقدام سے بلاشبہ فالج اور وائرس سے مفلوج بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔
واضح رہے کہ ہر ماہ انسداد پولیو کےلیے عالمی سطح پر مہم چلائی جاتی ہے اور95 فیصد پانچ سال سے کم بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جاتے ہیں۔
انسداد پولیو کی عالمی مہم 1988 میں شروع ہوئی اور اس کا مقصد 2000 تک اس بیماری کا خاتمہ تھا۔ لیکن یہ اقدام متعدد مسائل سے دوچار رہا۔
جن میں ویکسین کے خلاف مزاحمت، ویکسینوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی وباء اور پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا میں ناموافق معروضی حالات شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پولیو وائرس کی 3 اقسام ہیں جنہیں ٹائپ ون، ٹائپ ٹو اور ٹائپ تھری کہا جاتا ہے۔
کچھ دہائیوں قبل تک ’ٹرائیویلنٹ‘ نامی ویکسین ان تینوں وائرس کی روک تھام کے لیے استعمال ہوتی تھی لیکن 2016 میں ٹائپ ٹو وائرس کے خاتمے کے بعد ’بیویلینٹ‘ نامی دوسری ویکسین متعارف کروائی گئی تھی جس میں صرف ٹائپ ون اور تھری وائرس ہوتے ہیں۔
اس کے باوجود اچانک ٹائپ ٹو کے کیسز سامنے آرہے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ وائرس دوبارہ ابھر سکتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹوٹ آف ہیلتھ کے ایک عہدیدار کا کہنا تھا کہ سال 2020 میں ٹائپ ٹو وائرس کے تمام کیسز ایک سے ڈھائی سال کی عمر کے بچوں میں رپورٹ ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام بچے اس وقت پیدا ہوئے جب ٹائپ ٹو وائرس کی ویکسین کا استعمال متروک ہوچکا تھا۔
گزشتہ برس ملک بھر سے پولیو کے 146 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ 2018 میں مجموعی کیسز کی تعداد 12 اور 2017 میں صرف 8 تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close