کیا ٹی بی کی ویکسین کرونا وائرس کا توڑ بھی ہے؟

مہلک کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے وار روکنے کے لیے یورپ کے طبی ماہرین نے آزمائشی طور پر معمر افراد اور رضاکار طبی عملے کو ٹی بی سے بچاؤ کی ویکسین دینا شروع کی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ کرونا وائرس سے بچانے میں کس قدر مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے ممالک جہاں پیدائش کے وقت بچوں کو ٹی بی کی ویکسین یا بی سی جی دی جاتی ہے وہاں کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی شرح بہت کم ہے۔ اس مشاہدے کو سائنسی اصولوں پر پرکھنے کیلئے اب بی سی جی نامی ویکسین جن کو معمر افراد اور طبی رضاکاروں پر آزمایا جا رہا ہے تاکہ جب تک کرونا کی ویکسین تیار نہ ہو، ٹی بی کی ویکسین کے ذریعے ہی کام چلایا جا سکے۔ ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے ممالک جہاں ٹی بی سے بچاؤ کی ویکسین شہریوں کیلئے لازمی قرار دی گئی ہے وہاں Covid-19 وائرس سے متاثرہ افراد اور اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح بہت کم ہے۔ جریدے میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ یہ صرف ایک تعلق ہے لیکن کم از کم 6 ممالک میں ماہرین طب تجربات کے دوران یہ ویکسین طبی مراکز پر کام کرنے والے عملے اور بوڑھے افراد کو دی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعی اس ویکسین کی وجہ سے کورونا وائرس کا مرض جان لیوا ثابت نہیں ہوتا۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک اس تحقیق کے نتائج سامنے نہیں آئے تاہم طبی ماہرین اس حوالے سے مثبت نتائج کی امید کر رہے ہیں۔
نیویارک انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی تحقیق میں سب سے پہلے اس بات پر غور کیا گیا کہ جاپان میں وائرس کے کیسز بہت کم ہیں تو کیوں ہیں۔ خیال رہے کہ جاپان وہ ملک ہے جہاں چین کے بعد سب سے پہلے یہ کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تھے تاہم چین کی طرح یہاں لاک ڈائون نافذ نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر اوتازو کہتے ہیں کہ بی سی جی ویکسین کی وجہ سے نہ صرف ٹیوبرکلوسز یعنی ٹی بی بلکہ دیگر مختلف اقسام کے وبائی امراض سے بچائو کے ثبوت ملے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریسرچرز کی ٹیم نے ان تمام اعداد و شمار پر غور کرنا شروع کیا۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے ممالک جو زیادہ آمدنی والے ہیں اور جہاں بی سی جی ویکسین نہیں دی جاتی ان میں امریکا اور اٹلی شامل ہیں، تاہم اسپین، فرانس، ایران، برطانیہ اور جرمنی ایسے ممالک ہیں جہاں کئی برس قبل بی سی جی ویکسین دیے جانے کی پالیسی ختم کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں بھی بی سی جی ویکسین پلانا ضروری ہے تاہم 1976ء سے قبل وہاں یہ پالیسی لازمی نہیں تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close