ترکی کا بھی کرونا وائرس سے تحفظ کیلئے میڈیسن کی تیاری کا دعویٰ

ترکی کے ایک بڑے دوا ساز ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسی دوا تیار کرلی ہے جو کورونا وائرس کے علاج میں مثبت نتائج دے گی۔
ٹی آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق دوا ساز کمپنی سے تعلق رکھنے والے عبدی ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’تحقیق کے بعد ہم نے ایسی دوا تیار کرلی جو کورونا کے خلاف علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جس کے بعد ہم نے اسے وزارت صحت کو پیش کردیا‘۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم پورے سال یہ دوا تیار کریں گے اور پورے ترکی میں اس کا عطیہ کریں گے‘۔دوا ساز ادارے نے ڈاکٹرز، فارماسسٹ، نرسز اور پورے طبی عملے کا شکریہ بھی ادا کیا۔
خیال رہے کہ ترکی میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ 425 افراد اس وائرس سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔دوسری جانب ترکی میں اب تک 484 افراد علاج کے بعد صحتیاب بھی ہوئے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں اب تک اس وائرس سے 55 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد افراد میں کورونا کی تصدیق ہوچکی ہے۔
کورونا وائرس ایک عام وائرل ہونے والا وائرس ہے جو عام طور پر ایسے جانوروں کو متاثر کرتا ہے جو بچوں کو دودھ پلاتے ہیں تاہم یہ وائرس سمندری مخلوق سمیت انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔اس وائرس میں مبتلا انسان کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے اور اسے سانس میں تکلیف سمیت گلے میں سوزش و خراش بھی ہوتی ہے اور اس وائرس کی علامات عام نزلہ و زکام یا گلے کی خارش جیسی بیماریوں سے الگ ہوتی ہیں۔کورونا وائرس کی علامات میں ناک بند ہونا، سردرد، کھانسی، گلے کی سوجن اور بخار شامل ہیں اور چین کے مرکزی وزیر صحت کے مطابق ‘اس وبا کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہے، میں خوفزدہ ہوں کہ یہ سلسلہ کچھ عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے اور کیسز کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے’۔وائرس کے ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہونے کی تصدیق ہونے کے بعد چین کے کئی شہروں میں عوامی مقامات اور سینما گھروں سمیت دیگر اہم سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا گیا تھا جب کہ شہریوں کو سخت تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ متعدد شہروں کو قرنطینہ میں تبدیل کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی اور نئے قمری سال کی تعطیلات میں اضافہ کر کے تعلیمی اداروں اور دیگر دفاتر کو بند رکھا گیا تھا۔واضح رہے کسی کورونا وائرس کا شکار ہونے پر فلو یا نمونیا جیسی علامات سامنے آتی ہیں جبکہ اس کی نئی قسم کا اب تک کوئی ٹھوس علاج موجود نہیں مگر احتیاطی تدابیر اور دیگر ادویات کی مدد سے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close