کراچی: ایک ہی خاندان کے 7 افراد کرونا کا شکار ہو گئے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد کو کورونا ہوگیا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عوام کو ویڈیو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مجھے جس چیز کا ڈر تھا آج افسوس کے ساتھ وہ ہی ہوگیا، ایک ہی خاندان کے سات افراد میں کرونا ظاہر ہوا ہے، ضلع سینٹرل کراچی کی کچی آبادی میں فیملی کا سربراہ باہر سے وائرس لیکر گھر گیا، اس کے پورے خاندان بشمول ایک سال کا بیٹا اور 6 سال کی بیٹی میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ مجھے افسوس ہے کہ اتنے انتظامات کرنے کے بعد بھی ہمارے پاس ایک ہی گھر میں متاثرہ افراد کی تعداد 7 ہو گئی ہے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کچی آبادی میں رہنے والے بہن بھائیوں سے گزارش ہے راشن اور امداد ضرور لیں، راشن اور امداد کے ساتھ کرونا وائرس گھر نہ لے جائیں، امداد لیتے وقت ایک دوسرے سے فاصلہ ضرور اختیار کریں۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ایک خبر پھیلی ہوئی ہے کہ لوگ مجبور ہوکر خودکشیاں کر رہے ہیں جو بالکل بے بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے بعد بھی لوگ گھروں میں نہیں بیٹھ رہے، اسی وجہ سے ہمیں اس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لوگ حکومتی اقدامات پر عمل نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ہمیں اس طرح کے سنگین نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پورے ملک میں تقریباً ساڑھے 4 ہزار کیسز ہوچکے ہیں اور اس لاک ڈاؤن سے کافی لوگ خاص طور پر دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوا ہے اور جب بھی ہم اس لاک ڈاؤن کو کھولنے جائیں گے تو اس کا ایک طریقہ کار فراہم کریں گے اور سب پر لازم ہوگا کہ اس پر عمل کریں۔انہوں نے میں راشن یا حکومت کی طرف سے ملنے والے پیسوں کو وصول کرنے کے لیے جانے والے افراد سے درخواست کی کہ آپ راشن اور پیسے لیں لیکن ایسا نہ ہو کہ اپنے ساتھ یہ وائرس اپنے گھروں میں لے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یہی لوگ آگے مزدوری کے لیے جائیں گے اور ان سے فیکٹریز اور صنعتوں میں وائرس پھیلا تو اس پر کنٹرول کرنے کے لیے بہت زیادہ کوششیں کرنا پڑے گی تاہم میری گزارش ہے کہ جب بھی لاک ڈاؤن کھلے تو تمام افراد حفاظتی تدابیر اختیار کریں اور لوگ ایک دوسرے سے دور رہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ جیسے ہی کسی شخص میں علامات کے بارے میں پتہ چلے تو فوری طور اسے دیگر لوگوں سے الگ کرکے رپورٹ کرنا اور ٹیسٹ کرانا سب پر لازم ہوگا۔
مراد علی شاہ کے مطابق آپ سب کو اپنی اور اپنے خاندان کی صحت کا بھرپور خیال رکھنا ہوگا، مزید برآں انہوں نے ایک اخبار میں خودکشیوں سے متعلق خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مجبور ہوکر خودکشی کر رہے ہیں یہ خبر بالکل غلط ہے۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے گی لیکن عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ میں رش نہ لگانے سے متعلق ایس او پیز جاری کیے جائیں گے۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا اور ہوسکتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے اختتام کے بعد کیا جائے تاہم یہ فیصلہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے لیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سندھ میں سب سے پہلے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ سندھ میں لاک ڈاؤن میں سختی بھی کر دی گئی ہے لیکن ابھی بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ بھی کیا جا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل بھی کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں اور ایک دوسرے سے ملنے سے گریز کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close