اپریل کے آخر تک ملک میں کرونا وائرس شدت سے پھیلے گا

وزیراعظم عمران خان نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کرونا مزید پھیلے گا. کورونا کے باعث اپریل کے آخر تک ہمارے اسپتالوں پر بہت دباؤ ہوگا۔14 اپریل کے بعد صوبے فیصلہ کریں گے کہ لاک ڈاؤن میں کہاں نرمی کرنی ہے
دورہ کوئٹہ کے موقع پر ایک تقریب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا سے اکیلے کوئی نہیں لڑسکتا، کورونا سے اکیلے نہ وفاقی حکومت لڑسکتی ہے اور نہ صوبائی حکومت، پوری قوم کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک میں اب لاک ڈاؤن کو ختم کیا جارہا ہے تاہم صوبے بتائیں گے کہ لاک ڈاؤن مرحلہ وار کیسے ختم کریں گے، 14 اپریل کے بعد صوبے فیصلہ کریں گے کہ لاک ڈاؤن میں کہاں نرمی کرنی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم اندازہ لگارہے ہیں کہ اپریل کے آخر تک کورونا وائرس کا بہت پریشر ہوگا جس کے باعث اسپتالوں پر بھی بہت زیادہ دباؤ ہوگا، ہم امریکا، یورپ، چین اور دیگر ممالک میں کورونا کی صورتحال دیکھ رہے ہیں، چین نے کورونا وائرس کا مقابلہ کیا اس کے تجربے سے فائدہ اٹھا رہےہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت کورونا کا کوئی مریض انتہائی نگہداشت میں نہیں، بلوچستان میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنا آسان ہے جبکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بلوچستان زیادہ متاثر ہوسکتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہے جس کی کوئی مثال نہیں لہٰذا میرا آنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم ایک قوم بن کر مقابلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس صورت حال کی وجہ سے دو چیزوں کی فکر ہے ایک یہ کہ اس سے ہماری صحت کی سہولیات پر جو دباؤ پڑ رہا ہے تاہم فی الحال ابھی اتنا زیادہ دباؤ نہیں ہے لیکن جو ہم دیکھ رہے ہیں اور دنیا میں جس طرح اضافہ ہورہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے ہمارا اندازہ ہے کہ اپریل کے آخر تک اسپتالوں پر بہت دباؤ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک اس سے نمٹنے کی تیاری کررہا ہے، ہمارا ایک نیشنل کمانڈ ایک آپریشن سینٹر بنا ہے جس میں روازنہ سارے چیف سیکریٹریز اور صوبوں کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے، اس کے علاوہ ہمارے ماہرین صحت کورونا وائرس کے کیسز کا مکمل جائزہ لے رہے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے کہ کتنی اموات ہوئی اور ان کی کیا عمر تھی جبکہ ابھی کتنے لوگ آئی سی یوز میں ہیں۔ ہمارے لیے سب سے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں کیسز کس طرح کے ہیں کیوں کہ ان کی اور ہماری آبادی ملتی جلتی ہے اور اس سب چیزوں کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارے ڈاکٹرز، نرسز، ہیلتھ ورکرز کے لیے خصوصی حفاظتی کپڑوں پر پورا زور لگایا ہوا ہے جب کہ جو لوگ انتہائی نگہداشت میں کام کریں گے ان کےلیے حفاظتی کٹس پورے کردیے ہیں، تاہم اللہ کا کرم ہے کہ بلوچستان میں ابھی تک کوئی مریض آئی سی یو میں نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں وینٹی لیٹرز اور ذاتی تحفظ کی کٹس کی کمی ہے اور طلب بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں اس پر دباؤ بڑھا ہوا ہے ہمیں لگ رہا ہے کہ مہینے کے آخر تک ہمارے اسپتالوں پر بڑا دباؤ پڑے گا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ بلوچستان میں یہ دباؤ کم ہوگا لیکن دیگر صوبوں میں زیادہ ہوگا کیونکہ یہاں صرف کوئٹہ میں آبادی زیادہ ہے اور گنجان آباد ہے ورنہ باقی بلوچستان پھیلا ہوا ہے اور آبادی دور دور ہے، تاہم اس کے بنسبت اگر خدانخواستہ یہ بیماری پھیلنا شروع ہوئی تو ہمارے شہر کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، راولپنڈی وغیرہ میں بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے خدشہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے یومیہ اجرت والے، چھوٹی دکانداروں و دیگر ایسے لوگوں پر بلوچستان میں زیادہ اثر پڑے گا کیونکہ پوری پاکستان میں سب سے زیادہ غربت یہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 اپریل کو تمام صوبوں نے بتانا ہے کہ انہیں لاک ڈاؤن میں کن کن چیزوں میں نرمی کرنی ہے اور یہ صوبوں کا فیصلہ ہوگا کہ وہ کن کن چیزوں کو کھولنا چاہتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان مکمل تعاون چل رہا ہے کیونکہ جو اس وقت صورت حال ہے اسے کوئی حکومت اکیلے نہیں لڑ سکتی بلکہ ہم سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close