پاکستان میں کرونا چین کے مقابلے میں تیزی سے پھیل رہا ہے، چینی ماہرین

چین میں کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے طبی ماہرین نے پاکستان میں وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سماجی فاصلہ اور بڑے پیمانے پر طبی ٹیسٹ کا مشورہ دے دیا۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس چین سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے.پاکستان میں ہائی رسک پاپولیشن میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی شرح کافی تشویشناک ہے
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلنے کی شرح کافی تشویشناک ہے، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کو بڑھایا جائے اور جو لوگ اس وائرس سے متاثر ہوں انہیں ان کے گھروں، آئسولیشن سینٹرزاوراسپتالوں میں آئسولییٹ کردیا جائے انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ماسک پہننے کی شرح بھی انتہائی کم ہے، کورونا وائرس سے بچاؤ میں ہاتھ دھونے اور سینیٹائزرز کے استعمال کے ساتھ ساتھ ماسک پہننے کا کردار انتہائی اہم ہے۔
چینی ماہرین صحت کے وفد کی قیادت سنکیانگ صوبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر ما منگھوئی کر رہے ہیں اور یہ وفد اس وقت پاکستان کے دورے پر ہے اور وفاقی حکومت سمیت پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اپنی سفارشات پیش کر رہا ہے۔اس دورے کا مقصد پاکستان میں کورونا وائرس کو کنٹرول کرنا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے اس وفد کو اس لئے بلایا گیا تھا تا کہ یہاں کے ڈاکٹروں کو ٹریننگ دی جا سکے۔ چینی ڈاکٹروں کے وفد کی پاکستانی ڈاکٹروں اور حکام سے ملاقاتیں جاری ہیں۔ اسی دوران چینی ماہرین نے آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان میں حالات تشویشناک ہو سکتے ہیں کیونکہ یہاں وائرس چین سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نکلنے کا واحد حل سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جائے اور وائرس کے طبی ٹسیٹ کا عمل وسیع پیمانے پر کیا جائے۔
چینی ماہرین نے وائرس کے خلاف اب تک کی کوششوں کو سراہا لیکن کہا کہ صوبائی حکومت کو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے سخت لاک ڈاؤن کو یقینی بنانا ہوگا اور طبی ٹیسٹ میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ بصورت دیگر صورتحال صوبائی حکومت کی صلاحیت سے باہر ہوجائے گی۔
غیر ملکی ماہرین کا خیال ہے کہ صرف بڑے پیمانے پر طبی جانچ سے ہی ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی صحیح تعداد کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت سندھ صوبے بھر میں خصوصی کلینکس قائم کرے تاکہ وہ مشتبہ کیسز کی تیز رفتار سے جانچ کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو لاک ڈاؤن پر ’زبردستی‘عمل درآمد کرنا چاہیے کیونکہ سماجی فاصلے سے ہی مدد مل سکتی ہے۔انہوں نے عوام سے ماسک کے زیادہ سے زیادہ استعمال استعمال کرنے اپیل کی اور کہا کہ وبائی امراض کے بارے میں مختلف غیر تصدیق خبروں پر کوئی دھیان نہ دیں۔درجہ حرارت کی صورت میں وائرس پر اثرات کے بارے انہوں اسے محض ایک مفروضہ قرار دیا کیونکہ ابھی تک یہ ثابت نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ گرم ممالک میں بھی وائرس کے مثبت کیسز کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے گروپ تشکیل دیں تاکہ وبائی امراض کی وجہ سے ابھرنے والے دیگر چیلنجوں کو اجتماعی طور پر نمٹا جاسکے۔
دوسری جانب وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے ویڈیو لنک کے ذریعے صوبے کے تمام پبلک سیکٹر ہسپتالوں کے سربراہوں سے ایک میٹنگ کی اور کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے وارڈز قائم کرنے پر زور دیا۔محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ڈاکٹر عذرا نے تمام ہسپتال سے کہا کہ وہ احتیاط اور دیکھ بھال سے متعلق اپنے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس اور دیگر عملے کی تربیت کریں۔ مزیدپڑھیں: چین میں معمولات زندگی بحال، سیاحتی مقامات پر رش
انہوں نے کہا کہ تمام ہسپتال آئسولیشن وارڈ اور آئی سی یو میں خدمات انجام دینے والے اپنے طبی عملے کے لیے ذاتی حفاظتی سازوسامان (پی پی ای) کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈاکٹر 6 گھنٹے کی ڈیوٹی دیں گے اور انہیں قیام کے لیے الگ کمرہ مہیا کیا جائے علاوہ ازیں ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ہر ہفتے پیشرفت کے بارے میں وزارت کو مطلع کریں گے۔ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ہسپتالوں سے او پی ڈی کھولنے کے لیے بھی کہا اور جو ہسپتال ایسا کرنے سے قاصر ہیں وہ اپنے باقاعدہ مریضوں کے لیے ٹیلی میڈیسن پروگرام شروع کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close