کلیئر قرار دیے گئے زائرین میں کورونا وائرس کی تشخیص

گزشتہ دنوں کلیئر قرار دے کر اپنے اپنے اضلاع میں بھیجے گئے 1160 زائرین میں سے 453 افراد میں اپنے اضلاع میں پہنچنے کے بعد کورونا کی تشخیص کا انکشاف ہوا ہے۔ تافتان سے گزشتہ ماہ 20 مارچ کو کلیئر قرار دے کر بھجوائے گئے زائرین کا جب ضلعی حکومت نے تھرمل اسکریننگ کے ذریعے معائنہ کیا گیا اور جن میں علامات پائی گئیں انہیں دوسرے افراد سے الگ کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اور خصوصی طور پر محکمہ صحت کو درخواست کی تھی کہ انہیں ٹیسٹ کٹس مہیا کی جائیں تاکہ زائرین کا ٹیسٹ کرکے وباء سے متاثرہ افراد کو دوسرے لوگوں سے الگ کیا جا سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ بالآخر صوبائی حکومت کو بار بار درخواستیں کرنے کے بعد تمام زائرین کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 1160 زائرین کے ٹیسٹ منفی آئے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے متعدد اجلاسوں کے دوران اپنے اعلیٰ عہدیداروں اور سیکریٹری صحت کو کہا کہ تمام عازمین کو اپنے آبائی اضلاع مین بھجوائے جانے سے قبل ان کے ٹیست کیے جائیں مگر اعلیٰ افسران نے ضلعی انتظامیہ کو صرف 5 فیصد عازمین کے ٹیسٹ کرنے کےلیے کہا جس میں سے بھی تین عازمین میں کورونا کی تشخیص ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایات کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام عازمین کو اپنے آبائی اضلاع میں بھجوائے جانے کے انتظامات کیے اور 4 اپریل کو انہیں بھجوانے کےلیے بسوں کا بھی اہتمام کیا۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے عملے کو ہدایات کیں کہ بس کی سیٹ پر بٹھائے جانے والے ہر شخص کا پہلے ٹیسٹ کیا جائے، اس کے بعد ہی انہیں آبائی علاقوں کی جانب روانہ کیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ جب عازمین کو بتایا گیا کہ ان کے ٹیسٹ کرنے کے بعد ہی انہیں ان کے آبائی اضلاع میں بھیجا جائے گا تو عازمین نے احتجاج شروع کردیا اور عملے کو بھی قرنطینہ سینٹر سے بے دخل کردیا اور ساتھ ہی انہوں نے قرنطینہ سینٹرز کے دورازے بند کردیے اور کسی کو اندر آنے کی اجازت تک نہ دی۔ ذرائع کے مطابق قرنطینہ سینٹر کے باہر تعینات پولیس نے بھی ضلعی عہدیداروں کے ساتھ تعاون کرنا چھوڑ دیا جس کے بعد انتظامیہ کو فوج طلب کرنی پڑی، جنہوں نے عازمین سے مذاکرات کیے جو کہ اس بات پر بضد تھے کہ انہیں اپنے علاقوں میں جانے دیا جائے، کیوں کہ ان کے ٹیسٹ بھی منفی آئے ہیں اور انہوں نے ترتیب وار تافتان کے بعد ملتان کے قرنطینہ سینٹر میں بھی 15 دن گزارے ہیں۔
ان کے مطابق فوج اور عازمین کے درمیان مذاکرات میں یہ طے پایا کہ ان کے ٹیسٹ سیمپل لے کر انہیں اپنے اپنے آبائی علاقوں میں بھیج دیا جائے گا اور وعدے کے مطابق ان کے نمونے لے کر ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھجوادیے گئے جب کہ انہیں اپنے علاقوں میں بھیج دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تمام متعلقہ اضلاع کی حکومتوں کو تاکید کی تھی کہ بھجوائے جانے والے عازمین کےلیے قرنطینہ کا انتظام کیا جائے جب تک کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج نہیں آتے۔
صوبائی حکومت کی ہدایات کے بعد اب تمام ضلعی حکومتیں پریشان ہیں، کیوں کہ ان کے پاس مریضوں کےلیے قرنطینہ کے مناسب انتظامات نہیں ہیں جب کہ حکام کو خدشہ ہے کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ جن عازمین کے ٹیسٹ پہلے منفی آئے تھے، اب دوران سفر وہ بھی کورونا سے متاثر ہو چکے ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ ملتان کی ضلع انتظامیہ نے تجویز دی تھی کہ پولیس کی بھاری نفری کو قرنطینہ میں تعینات کیا جائے تاکہ عازمین ایک دوسرے سے مل نہ سکیں مگر پولیس نے مبینہ طور پر انتطامیہ کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد اب قرنطینہ میں موجود افراد کے ایک دوسرے میں گھل مل جانے سے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے عہدیدار بھی قرنطینہ سینٹر میں ذمہ داریاں نبھانے سے گریز کر رہے ہیں، جس کے بعد ڈپٹی کمشنر کے پاس شہری رضاکاروں اور غیر تربیت یافتہ عملے کو تعینات کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ نشتر ہسپتال کی انتظامیہ نے قرنطینہ سینٹر میں ڈاکترز اور طبی عملے کی تعیناتی کے مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔
جب ذرائع کی جانب سے بتائے گئے دعووں کے حوالے سے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا نے بتایا کہ ہسپتال صرف کورونا کے ٹیسٹ دیکھ رہا ہے۔ ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا کا کہنا تھا کہ قرنطینہ سینٹرز کی دیکھ بھال کا کام پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا ہے اور یونیورسٹی صرف ٹیسٹ کر رہا ہے اور ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ہسپتال نے قرنطینہ سینٹرز میں عملے کی تعیناتی سے انکار نہیں کیا۔ادھر ڈی سی نے کہا ہے کہ جب تک متعلقہ اضلاع عازمین کے حوالےسے مناسب انتظامات نہیں کرتے انہیں اپنے آبائی اضلاع میں نہیں بھیجا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close