سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود او پی ڈیز مکمل بحال نہ ہوسکیں

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم کے باوجود ملک بھر کے ہسپتالوں میں ابھی تک او پی ڈیز مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکیں اور صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں او پی ڈیز تقریباً مکمل طور پر بند ہیں۔
سپریم کورٹ نے عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہسپتالوں کو فوری طور پر او پی ڈیز کھولنے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کی تھی۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے تنقید اور حکم کے بعد حکومت سندھ نے بدھ کو سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ ہسپتال میں او پی ڈی کھلی ہوئی ہے لیکن کورونا وائرس کے سبب لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے مریضوں کی تعداد معمول سے انتہائی کم ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جناح ہسپتال نے اپنی او پی ڈی بند نہیں کی تھی جبکہ این سی ایچ میں بھی یہی صورتحال تھی کیونکہ وہاں بھی او پی ڈیز کھلی ہوئی تھیں۔البتہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ سیکیورٹی اسٹاف اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کو تعینات کردیا گیا ہے تاکہ ہسپتال میں بھیڑ جمع نہ ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جے پی ایم سی غریبوں کا ہسپتال ہے لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے مریضوں کی تعداد انتہائی کم ہوگئی ہے کیونکہ پہلے دن میں تقریباً 5ہزار مریض آتے تھے لیکن اب بمشکل 350 سے 380 مریض آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عام دنوں میں 1500 سے 1700 مریض روزانہ ایمرجنسی کا دورہ کرتے تھے لیکن اب یہ تعداد بھی کم ہو کر 700 سے 800 تک پہنچ گئی ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ خصوصی کلینکس میں 800 مریض روزانہ کی بنیاد پر آتے تھے لیکن وہاں بھی تعداد کم ہو کر 150 ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر رتھ فاؤ ہسپتال کراچی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ او پی ڈی کھلی تو لوگوں کی بھیڑ جمع ہو گئی لہٰذا محکمہ صحت کو وائرس سے بچاؤ اور اس کے تدارک کے لیے خصوصی ہدایات جاری کرنی چاہئیں۔انہوں نے تجویز دی کہ طبی عملے کو مرکزی دروازے پر تعینات کردینا چاہیے تاکہ وہ مریضوں کا معائنہ کر سکیں اور وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے انہیں صرف ایک فرد کے ساتھ اندر آنے دیں۔ادھر عباسی شہید ہسپتال میں موجود ذرائع نے بتایا کہ او پی ڈی ابھی بھی بند ہیں۔
دوسری جانب پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد نے کہا کہ ہسپتالوں کی او پی ڈیز کھل گئی ہیں لیکن چند ڈپارٹمنٹس ابھی بھی بند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کے او پی ڈی میں ای این ٹی، ڈینٹسٹ، ڈرماٹولوجسٹ سمیت 4 ڈپارٹمنٹ تاحال بند ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام ڈپارٹمنٹس ایک دم نہیں کھول سکتے جبکہ آؤٹ ڈورز میں کچھ محکمے لوگوں کے رش کو روکنے کی وجہ سے نہیں کھولے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں کورونا کے مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور لاہور کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تھوڑا سا مسئلہ رہے گا۔وزیر صحت کا کہنا تھا کہ میو ہسپتال میں ٹرائی ایج کا سسٹم شروع کیا ہوا ہے جبکہ ٹرائی ایج میں مشکوک علامات کے افراد کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کے کورونا کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں انہیں میو ہسپتال، پی کے ایل آئی اور ایکسپو سینٹر میں داخل کریں گے۔
خیبرپختونخوا میں صورتھال انتہائی تشویشناک ہے اور کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے مریضوں اور عملے کی کمی کے سب صوبے کے 80 سے 90 فیصد ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند ہیں۔پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت اکثر ہسپتالوں میں او پی ڈیز نہیں کی جا رہیں جبکہ ضلع ہسپتالوں میں بھی عملے کی کمی کی وجہ سے او پی ڈیز بند پڑی ہیں۔ضلعی ہسپتال کے ایک سینئر آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمیں اسٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے او پی ڈیز چلانا ممکن نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ قرنطینہ وارڈ قائم کر دیے ہیں جس میں اسٹاف 24 گھنٹے دستیاب ہے لیکن دو دن بعد حفاظتی تدابیر کے طور پر طبی عملے کو بھی آئسولیشن میں رکھنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے عملہ انتہائی کم ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ایمرجنسی کو بھی چلانا ہوتا ہے لہٰذا ایسی صورتحال میں اتنے کم عملے کے ساتھ ہم او پی ڈیز کو کیسے آپریشنل رکھ سکتے ہیں۔صوبے کے تمام ٹیچنگ ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی کیسز کو دیکھا جا رہا ہے اور ڈاکٹرز اور عملے کی قلت کی وجہ سے معمولی بیماریوں کے حامل مریضوں کو نہیں دیکھا جا رہا۔
بلوچستان میں بھی سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود او پی ڈیز کو فی الحال نہیں کھولا گیا۔بلوچستان کے کسی بھی ہسپتال میں او پی ڈیز نہیں کھلیں اور فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ بلوچستان میں او پی ڈیز کب تک کھلیں گی۔وسری جانب بلوچستان میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز اور حکومت کے درمیان آج مذاکرات ہوئے لیکن اس میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی۔
تاہم وفاقی دارالحکومت نے دفعہ 144 کے نفاذ کے نتیجے میں او پی ڈیز کی بندش پر عائد پابندی عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہٹا لی ہے۔تاہم او پی ڈیز کو کھولنے کے ساتھ ساتھ تمام ہسپتالوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے حکومت کی جانب جاری کردہ ہدایات خصوصاً سماجی فاصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
یاد رہے کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان بھر میں کورونا وائرس پر گزرتے دن کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے اور اب تک ملک بھر میں 4 ہزار 479 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 65 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک بھر کے ہسپتالوں میں او پی ڈیز کو بند کردیا گیا لیکن عوام کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ہسپتالوں کی او پی ڈیز کھولنے کا حکم دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close