جانیے ہیکرز کے ہاتھوں لٹنے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

کرونا وائرس کی وباء کے دوران ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کو نشانے پر رکھ لیا ہے اور کووڈ 19 کا خوف دلانے سمیت مالی مراعات، اقتصادی پیکج اور مستند معلومات کا جھانسہ دے کر لوٹنا شروع کر دیا۔ ہیکرز کی طرف سے انٹرنیٹ پر متحرک ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کمپنیوں نے ہیکرز کی طرف سے ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے انٹرنیٹ صارفین کو غیر شناسا لنک سے موصول ہونے والی ای میل کو کھولنے اور لنک پر کلک سے باز رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

دنیا میں جیسے ہی کرونا وائرس پھیلنا شروع ہوا، ہیکروں نے ایک سوچے سمجھے اور منظم طریقے سے کمپیوٹر وائرس پھیلانے کی مجرمانہ کارروائیوں کو بھی تیز کر دیا۔
کرونا وباء کے دوران لاک ڈاؤن کی وجہ سے گھروں میں بیٹھے انٹرنیٹ صارفین کو ہیکرز کی طرف سے کی گئی کچھ ای میلز میں ڈر اور کچھ میں مالی مراعات کا لالچ دیا جاتا ہے تاکہ صارف کو فوری ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔ کچھ ای میلز میں ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ ان کو بھیجی جانے والی ای میلز کسی حکومتی یا عالمی ادارہ صحت جیسے بین الاقوامی ادارے کی طرف سے بھیجی جا رہی ہیں تاکہ صارف بغیر ہچکچاہٹ کے فوری طور پر مالی عطیات ان فراڈ ہیکرز کو دے دے یا میل وئیر انسٹال کرلے۔ کچھ ای میلز میں چھوٹے کاروباری اداروں کو اقتصادی پیکجز کے ذریعے ٹھگنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دیگر ہیکرز گھر سے کام کرنے والے افراد کی ذاتی تفصیلات چوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سائبر جرائم کرنے والے مختلف زبانوں، انگریزی، فرانسیسی، اطالوی، جاپانی اور ترکی میں ای میلز بھیج کر لوگوں، صنعتوں، ٹرانسپورٹ، صحت، انشورنش، میزبانی اور تجارتی اداروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔۔ہیکرز اس وبا کے سامنے آنے کے بعد سے اپنے آپ کو عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان کے جھانسے میں آ کر انکے بھیجے لنکس ڈاون لوڈ کر لیتے ہیں انھیں کوئی اہم معلومات تو حاصل نہیں ہوتی تاہم ان کے کمپیوٹر آلودہ سافٹ ویئر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ کے کمپیوٹر میں یہ آلودہ سافٹ ویئر آ جانے سے آپ جو کچھ ٹائپ کریں گے اس کا تمام ریکارڈ ہیکروں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جس کے بعد وہ آپ کی آن لائن بینکنگ اور دیگر اکاونٹس تک پہنچ سکتے ہیں۔اس فراڈ سے بچنے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے نام سے آنے والی ایسی تمام ای میلز کو نظر انداز کریں۔

خبروں کا جھانسہ دے کر ای میل اکاؤنٹس کو پھانسنے کی یہ کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن انفارمیشن سیکیورٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں تیزی کا تعلق کووڈ 19 سے صاف نظر آتا ہے اور اس کی شدت گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ پروف پوائنٹ نامی ادارے کے محققین کی نظر سے اس سال فروری میں ایک عجیب ای میل گزری۔ اس میں ایک پراسرار ڈاکٹر کی طرف سے ایک پیغام تھا جو یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ اس کے ہاتھ ایک ایسی دستاویز لگی ہے جس میں کرونا وائرس سے بچاؤ کی ایک ایسی ویکسین کی تفصیلات ہیں جسے چین اور برطانیہ کی حکومت چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ پروف پوائنٹ کے مطابق یہ ای میل وصول کرنے والے پر تجسس افراد جب اس پر کلک کرتے ہیں تو ایک ایسا صفحہ کھل جاتا ہے جو بظاہر بالکل عام سا بے ضرر اور قابل اعتماد نظر آتا ہے لیکن اصل میں جرائم پیشہ ہیکروں کا بنایا ہوا ایسا صفحہ ہے جس سے صارف کی تمام ’لاگ ان‘ تفصیلات آگے منتقل ہو جاتی ہیں۔ پروف پوائنٹ کا کہنا ہے ان کے مشاہدے میں آیا کہ ایک وقت میں ایک ساتھ دو لاکھ ای میل بھیجی گئی ہیں۔

ہیکرز کی طرف سے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد اب گوگل نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک ہفتے کے دوران اس وبا سے متعلق ایک کروڑ 80 لاکھ مشتبہ ای میلز جی میل پر روزانہ کی بنیاد پربلاک کی ہیں۔ گوگل نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ان ای میلز میں میل وئیر یا نقصان دہ لنکس موجود تھے اور یہ کووڈ 19 سے متعلق 24 کروڑ اسپام ای میلز سے الگ ہیں، جن کو گوگل روزانہ دیکھ رہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے صارفین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگرچہ وہ بیشتر ای میلز کو بلاک کررہی ہے مگر پھر بھی کچھ تعداد میں یہ پیغامات ان تک پہنچ سکتے ہیں، جن میں پیکرز اس وبا کے حوالے سے موجود خوف اور غیریقینی صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ گوگل نے مشورہ دیا ہے کہ نامعلوم افراد کی ای میلز میں سے فائلز کو ڈائون لوڈ نہ کریں اور کسی لنک پر کلک کرنے سے پہلے کوشش کریں کہ اس کے مستند ہونے کی تصدیق کریں اور کسی صورت لاگ ان تفصیلات دینے سے گریز کریں۔
انٹرنیٹ سیکیورٹی ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہیکرز کی جانب سے کورونا وائرس کے بحران کو فائدے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور دنیا بھر میں ہیکنگ کے خطرات میں ایک ماہ کے دوران 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اب تک صرف امریکا میں ہی لوگوں کو کرونا وائرس سے متعلق فراڈ کے ذریعے آن لائن ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close