ہمارے جسم کے وہ اعضاء جو اب کسی کام کے نہیں رہے

انسانی جسم ایک پیچیدہ مشین کی طرح ہوتا ہے جس کا ہر عضو قدرت نے بہت سوچ سمجھ کر بنایا ہے اور اس کی اہمیت جسم کے نظام کو چلانے کے لیے لازم ہوتی ہے- مگر یہ بھی ایک سچ ہے کہ ماضی میں انسان غاروں میں رہتا تھا، اسکی زندگی بڑے رف اور مشکل حالات میں گزرتی تھی۔ تب انسان کی غذا کچا گوشت اور پتے ہوتی تھی- لیکن جیسے جیسے انسان کے طرز زندگی میں تبدیلی آئی اور وہ ارتقاء کی جانب گامزن ہوتا چلا گیا
اس کی زندگی بھی تہذیب و تمدن سے آشکار ہوکر آسان ہوتی گئی۔ یوں انسانی جسم کے کچھ حصے جو کہ ماضی میں اس کے لیے بہت لازم ہوتے تھے، ارتقا کے مرحلے سے گزرنے کے بعد اب کسی کام کے نہیں رہے اور ان کا ہونا یا نہ ہونا انسان کی صحت پر کوئی فرق نہیں ڈالتا۔ اگرچہ ایسے کچھ عضو انسانی جسم میں آج بھی موجود ہیں مگر ان کا استعمال ختم ہو چکا ہے۔ تاہم وہ فاضل اعضا کے طور پر ہمارے جسم میں اج بھی موجود ہیں- آئیے آج ہم آپ کو انسانی جسم میں موجود ایسے فا ضل اعضا کے بارے میں بتاتے ہیں۔

اپنڈکس انسان کی آنت کے ساتھ ایک انگلی نما علیحدہ سے جڑا عضو ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب انسان ایسے پودوں کو اپنی غذا کے طور پر استعمال کرتا تھا جن کے اندر سیلولوز کی بڑی مقدار موجود ہوتی تھی تو اس کو اس غذا کو ہضم کرنے کے لیے اپنڈکس کی ضرورت ہوتی تھی- مگر جیسے جیسے تہذیب نے انسان کی غذائی عادات کو تبدیل کیا اور اسکی زندگی میں کی غذا میں پکے ہوئے کھانوں کا عمل دخل بڑھ گیا، اپنڈکس ایک فالتو عضو بن کے رہ گیا- لیکن کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اپنڈکس میں ایسے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں جو کہ ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں-

اس بات سے بچہ بچہ واقف ہے کہ انسان کے منہ میں 32 دانت ہوتے ہیں مگر یہ 32 دانت چار عقل داڑھوں کو شامل کر کے گنی جاتے ہیں جب کہ دنیا میں بڑی تعداد میں انسان ایسے بھی ہیں جن کی عقل داڑھ ساری عمر نکلتی ہی نہیں۔ اکثر لوگوں کی عقل داڑھ نکل بھی آئے تو وہ اس کو تکلیف کے سبب نکلوا دیتے ہیں کیوں کہ یہ داڑھ صرف انسان کے لیے اس وقت تک فائدہ مند تھی جب تک کہ وہ کچی غذاؤں کا استعمال کرتا تھا- اور اس کو اس غذا کو ہضم کرنے کے لیے یا توڑنے کے لیے بہت مضبوط جبڑوں کی ضرورت ہوتی تھی- مگر اب غذائی عادات میں تبدیلی کے باعث نہ تو مضبوط جبڑوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی عقل داڑھ کی-

پلمارس لونگس پٹھے انسانی ہاتھ کی کلائی سے لے کر کہنی تک موجود ہوتے ہیں۔ لیکن اب دس فی صد افراد میں تو ان پٹھوں کا وجود بھی نہیں ہوتا ہے- کہا یہ جاتا ہے کہ ماضی میں انسان جب درختوں پر چڑھ کر اپنی غذا تلاش کرتا تھا یا پھر درختوں پر گھر بنا کر رہتا تھا تب اس کے بازوں میں مضبوط گرفت کے لیے یہ عضلات موجود ہوتے تھے جو کلائی کو مضبوطی فراہم کرتے تھے مگر اب انسانی جسم کے اندر یہ عضو معطل کے طور پر موجود ہیں-

ماضی میں جب انسان اپنے جسم کو پتوں سے چھپاتا تھا یا پھر جانوروں کی کھالوں سے اپنی ستر ڈھانپتا تھا تو اس کے جسم پر بہت سارے بال بھی موجود ہوتے تھے- اس دور میں اریکٹر پلی یا رونگٹے جیسے عضو ہوتے تھے جو کہ انسانی جلد پر بالوں کے بالکل نیچے موجود ہوتے تھے اور کسی بھی خطرے کی صورت میں سکڑتے تھے جس سے انسانی جسم پر موجود بال کھڑے ہو جاتے تھے- ان رونگٹوں کے کھڑے ہونے سے جسم کی ساخت بڑی ہو جاتی تھی جس سے انسان کو اپنے جسم پر ہیبت طاری کرنے میں مدد ملتی تھی- مگر جیسے جیسے انسانی جسم سے بال کم ہوتے گئے اور طرز زندگی میں تبدیلی آتی گئی، انسان کو ان رونگٹوں کی حاجت نہیں رہی اور یہ بھی جسم میں فاضل ہو گئے-

آریکیولر مسلز انسان کے بیرونی کان کے پاس موجود ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ مسلز ان جانوروں میں بہت ایکٹو ہوتے ہیں جو کہ اپنے شکار کی آواز کانوں سے سن کر اسکی موجودگی کا اندازہ لگاتے ہیں- لیکن اب یہ مسلز بھی کارآمد نہیں رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close