چہرے کی رعنائی کیلئے خواتین ایلویرا استعمال کریں

انگلش میں ایلوویرا، پنجابی میں کوار گندل اور سندھی میں کنوار بوٹی کہلائے جانے والے سبز رنگ کے ملائم پودے کا گودا حسن و خوب صورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ چہرے کو رعنائی اور تازگی فراہم کرنے کے لئے مختلف کاسمیٹکس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جلد کی حفاظت کرنے والی کئی کاسمیٹکس مصنوعات، اپنے اندر کوارگندل کا جزو شامل ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں۔

ایلوویرا کی تاریخ چار ہزار سال پرانی ہے۔ 2,200قبل مسیح کے لوگ اس کے فوائد سے آگاہ تھے اوراسے مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔۔ایسا بھی مانا جاتا ہے کہ مصر کی ملکہ قلوپطرہ اپنی صحت اور چہرے کی خوبصورتی برقرار رکھنے کی غرض سے کوار گندل کریم کا استعمال کرتی تھیں۔ زمانہءِ قدیم میں مصر کے لوگ ایلوویرا کو انفیکشن کے علاج، جلد کی خرابیوں اور بطور جلاب آور خوراک کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

ایلوویرا کی پانچ سو کے قریب اقسام ہیں اور یہ للی کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا آبائی وطن افریقا ہے۔ یہ گرم علاقوں میں آسانی سے اُگایا جاسکتا ہے۔ یہ امریکا، جنوبی افریقا، چین، پاکستان وغیرہ میں باکثرت پایا جاتا ہے۔ایلوویرا میں پانی،20معدنیات، 12وٹامن اور 200 فوٹو نیوٹرنز ہوتے ہیں۔ایلوویرا جسم کے مدافعتی نظام کو بہتر اور مضبوط بناتا ہے۔ بکٹیریا کو ختم کرتا ہے اور بڑھاپے کے اثرات کو کم کرتا ہے۔ سفید سیلز کو تیز کرتا ہے۔ کینسر سے بچاتااور دل کو مضبوط کرتا ہے۔ بلڈ شوگر کے لیے بھی مفید ٹانک ہے۔ جوڑوں، ٹیشوز اور مسوڑوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اس کا استعمال ایڈز کے مریضوں میں قوت مدافعت پیدا کرتا ہے۔جلد اور بالوں کی خوب صورتی کے لیے صدیوں سے آزمودہ ٹانک ہے۔

بابائے طب ہپوکریٹس نے بھی کوار گندل میں موجود کئی ادویاتی فوائد کی وجہ سے اس کا استعمال کیا۔ ہندوستان میں قدیم آیوروید دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ کوار گندل کو ایکزیما یعنی سوزش جلد یا خارش کے علاج کے لیے استعمال کرتے تھے۔ طب عرب میں سر درد سے نجات حاصل کرنے کے لیے کوار گندل کے تازہ جیل سے پیشانی پر مالش کی جاتی ہے یا بخار ہونے کی صورت میں مریض کے پورے جسم پر مالش کی جاتی ہے۔

ایلوویرا وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، سی، ای، بی 1، بی 2، بی 3 اور بی 12؛ پروٹین، لپڈز، امائینو ایسڈز، فولک ایسڈ اور کیلشیئم، میگنیشیئم، زنک، کرومیئم، سیلینیئم، سوڈیئم، آئرن، پوٹاشیئم، کاپر اور مینگنیز جیسے منرلز شامل ہوتے ہیں جو ہماری صحت بہتر رکھنے کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔ ان تمام اجزا کی موجودگی ہی ایلوویرا کو کاسمیٹکس اور روایتی ادویات کا اہم جزو بنا دیتی ہے۔

اس کا جادوئی جیل اورعرق دونوں ہی ادویات کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایلوویرا ایک صاف، جیلی نما مواد ہوتا ہے جو پتے کے اندورنی حصے میں موجود ہوتا ہے، جبکہ عرق پودے کی کھال کے نیچے سے حاصل ہوتا ہے جس کا رنگ زرد ہوتا ہے۔

ایلوویرا کھائے جانے پر انتڑیوں سے گزرتے ہوئے زہریلے اور فاسد مواد جذب کر لیتا ہے اور بڑی آنت کے ذریعے خارج کر دیتا ہے۔ اس سے جسم سے سارا فضلہ ٹھیک طرح سے خارج ہوجاتا ہے اور زہریلے مواد سے نجات ملتی ہے۔ اس کو جلد کی حفاظت اور زخم ٹھیک کرنے کیلئے مجرب مانا جاتا ہے اور جلنے، خراش، ایکزیما، خارش اور کیڑوں کے کاٹنے پر لگانا کافی مفید سمجھا جاتاہے۔ یہ درد سے آرام دلانے والی دوا کے طور پر کام کرتا ہے اور فوراً اثر کرتا ہے۔

پانی کی وافر مقدار میں موجودگی کی وجہ سے ایلوویرا جلد میں پانی اور نمی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے اور جلد کو جوان رکھنے کے لیے مفید ہے۔ یہ جسم کے ٹشوز کو بھی سکیڑ دیتا ہے جس سے خصوصی طور پر معمولی خراشوں سے خون کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جسم کا کوئی حصہ جل جائے تو اس پر کوار گندل لگانے سے درد کم ہوجاتا ہے اور جلن ختم ہوجاتی ہے۔

اس میں چند ایسے قدرتی اجزاء موجود ہوتے ہیں جو سوزش کو کم کرنے یا روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں؛ بیرونی سطح پر ایلوویرا کی جیل لگانے سے پٹھوں کا تناؤ ختم ہوتا ہے، اور اکڑن کے باعث ہونے والے جوڑوں کے درد میں آرام ملتا ہے۔ یہ جوڑوں کی لچک بہتر کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

یہ نظامِ ہاضمہ کی صفائی اور ہاضمہ بہتر بنانے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایلوویرا قبض اور ڈائیریا دونوں کے لیے مددگار ہوتا ہے؛ ایسا اس لیے ہے کیونکہ یہ اخراجی نظام کو جاری رکھنے میں مدد کرتا ہے۔
ایلوویرا کا رس ایک آسان اور قدرتی طور پر وزن کم کرنے والا محلول سمجھا جاتا ہے؛ یہ میٹابولزم کی رفتار کو تیز کر کے وزن کم کرتا ہے اور چربی گھلانے میں مدد کرتا ہے۔

اگر آپ کے بال روکھے، سخت، کمزور اور دو مونہے ہونے کے ساتھ خشکی کا شکار ہیں تو پھر اس مسئلے کا حل ایلوویرا کا استعمال ہے، یہ آپ کے بالوں کو نرم و ملائم بنانے کے ساتھ ٹوٹنے سے بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

لیکن اس میں فوائد ہونے کے باوجود اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے کیونکہ ایلوویرا کے مسلسل استعمال سے جسم میں الیکٹرولائیٹس خاص طور پر پوٹاشیئم کی کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دورانِ حمل، خواتین کے مخصوص ایام کے دوران، بواسیر یا جگر اور پِتہ کی بیماری ہو تو بھی اس کے استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close