کورونا وائرس : ’ہائیڈروکسی کلوروکوئین‘ کا کوئی نقصان یا فائدہ نہیں

کووڈ 19 کے علاج کےلیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ ملیریا کی دوا ’ہائیڈروکسی کلوروکوئن‘ کےحوالے سے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مجوزہ دوائی سے کوئی نقصان یا فائدہ نہیں ہے۔
ملیریا کے علاج میں استعمال ہونے والی دوا ’ہائیڈروکسی کلوروکوئن‘ کے کورونا مریضوں پر مثبت اثرات سامنے آئے تھے اور مختلف ممالک میں اسے کورونا مریضوں کے علاج میں استعمال بھی کیا جارہا ہے۔
برطانوی طبی جریدے میں شائع نئی تحقیق کے مطابق امریکا کے مختلف اسپتالوں میں کورونا مریضوں پر مرتب ہونے والے’ہائیڈروکسی کلوروکوئن‘ کے اثرات کا مشاہدہ کیا گیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ اس کے استعمال سے موت یا سانس کی نلکی لگانے کے خطرات کی شرح میں اضافہ یا کمی نہیں دیکھی گئی لہٰذا اس کے استعمال سے کوئی نقصان ہے نہ فائدہ۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کئی دہائیوں سے ملیریا کے علاج کےلیے استعمال کی جارہی ہے تاہم یہ تحقیق دوا کو دیگر جگہوں پر مریضوں پر آزمائش سے منع کرنے کی سفارش نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مارچ میں ملیریا کی دوا کلورو کوئن Chloroquine اور ہائیڈروکسی کلورو کوئن Hydroxychloroquine کو کورونا علاج کےلیے تجویز دی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے علاج اور ویکسین کی تیاری کے لیے سرخ فیتے کی رکاوٹیں ختم کردی ہیں۔
خیال رہے کہ کورونا کے علاج کےلیے دنیا بھر میں کئی کمپنیاں اور ادارے اس وقت کورونا وائرس کی 100 سے زائد ویکسینز پر کام کر رہے ہیں جن میں سے پانچ کی انسانوں کی پر آزمائش بھی شروع کر دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close